کرناٹک میں ویکینڈ کرفیو کا سختی سے نفاذ۔ بازار بند، سڑکیں سنسان

تیزی سے پھیل رہی کورونا وائرس کی اومیکرون شکل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت ڈاکٹر ڈی کے سدھاکر نے کہا کہ ریاست کے چھ اضلاع، بنگلورو اربن، بنگلورو رورل، مانڈیا، میسور، اڈپی اور کولار میں وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور ان اضلاع میں مثبت ہونے کی شرح بھی زیادہ ہے۔

بنگلورو/بیدر/رائچور: ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر ڈی کے سدھاکر نے کہا کہ لاک ڈاؤن اب کووڈ19وباء کو روکنے کا راستہ نہیں رہا، کیوں کہ یہ ماضی کی پالیسی ہے اور کرناٹک میں اسے نافذ کرنے پر غور نہیں کیا جارہاہے۔

تیزی سے پھیل رہی کورونا وائرس کی اومیکرون شکل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے چھ اضلاع، بنگلورو اربن، بنگلورو رورل، مانڈیا، میسور، اڈپی اور کولار میں وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور ان اضلاع میں مثبت ہونے کی شرح بھی زیادہ ہے۔

وزیر نے کہا کہ ”ہم ضلع انتظامیہ کے رابطے میں ہیں۔ ہم وباء کی رفتار سست کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ حالانکہ اومیکرون زیادہ مہلک نہیں ہے لیکن جن افراد نے کووڈ19کا ٹیکہ نہیں لگوایا انہیں خطرہ ہے۔

انہوں نے وارننگ دی ہے کہ کچھ معاملوں میں موت تک ہوسکتی ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ ”لاک ڈاؤن کوئی حل نہیں ہے۔ یہ اب ماضی کی پالیسی ہوسکتی ہے۔ یہ اس وقت لگایا گیا تھا جب حل نہیں تھا۔

اب ہم جانتے ہیں کہ وائرس کا علاج کیسے کرنا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن حکومت کے زیرغور نہیں ہے۔ وزیر نے ریاست میں کووڈ ٹیکہ اندازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل 90فیصد افراد کو پہلی خوراک اور 80فیصد کو دوسری خوراک دی جاچکی ہے۔

بنگلورو میں وائرس کی شرح پانچ فیصد سے متجاوز ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وائرس کی شرح پر فکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ وائرس کو نہیں روک سکتے کیوں کہ یہ عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔

حالانکہ آپ اس کی رفتار سست کرسکتے ہیں۔ ایک با رپھر ویکینڈ کرفیو کے نفاذ کے بعد 10بجے رات سے پورے شہر کو بند کردیا گیا۔ پولیس محکمہ کے اہلکار تجارتی عمارتوں کو بند کرواتے، فلائی اوورس اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے اور چیک پوسٹ قائم کرتے نظر آئے۔ شہر میں 55گھنٹوں تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا اور پیر10/ جنوری کو صبح 5بجے ہی کھلے گا۔

پولیس عہدیداروں نے جمعہ7/ جنوری کی صبح سے ہی اس کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کووڈ قواعد کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ کل رات بنگلورو کی مصروف سڑکیں مکمل ویران نظر آئیں۔

کرفیو کی وجہ سے شہر آنے والے کئی مسافرین عملاً پھنس کر رہ گئے۔ کے ایس آر بنگلورو ریلوے اسٹیشن اور کیمپے گوڑا بس ٹرمینس پر پہنچنے والے مسافرین گھر جانے آٹورکشاؤں اور کیابس حاصل کرنے جدوجہد کرتے نظر آئے۔ پولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی اور گاڑیاں ضبط کرنے کا انتباہ دیا۔

وزیر آبکاری کے گوپالیا نے کہا کہ ریاست میں جمعہ کی رات سے شروع ہونے والے دو روزہ کرفیو کے دوران شراب کی فروخت نہیں ہوگی۔ یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گوپالیا نے کہا کہ تبادلہ خیال کے بعد ویکینڈ کرفیو کے دوران شراب کی فروخت پر امتناع عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ عہدیدار وں کو اس ضمن میں احکام جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔

ریاست میں کووڈ کیسس میں اچانک اضافہ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ صورت حال میں شراب کی دکانات کے مالکین کی درخواست پر غور نہیں کیا جاسکتا۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button