کرناٹک کے ایک کالج میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی

31 دسمبر کو پہلی مرتبہ احتجاج کیا گیا تھا جب پرنسپل نے طلبہ کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ انہیں چوڑی دار پائجامہ اور دوپٹہ استعمال کرنا چاہئے جس کی ہدایت اس ادارہ میں 1985 میں دی گئی تھی۔

بنگلورو: کرناٹک کے ضلع اڈپی کے ایک سرکاری کالج نے گذشتہ تین ہفتہ سے مسلم طالبات کو کلاسس میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سبق کے دوران حجاب نہیں پہن سکتیں۔

31 دسمبر کو پہلی مرتبہ احتجاج کیا گیا تھا جب پرنسپل نے طلبہ کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ انہیں چوڑی دار پائجامہ اور دوپٹہ استعمال کرنا چاہئے جس کی ہدایت اس ادارہ میں 1985 میں دی گئی تھی۔

بعدازاں 6 طالبات نے اس ڈریس کوڈ پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور احتجاج شروع کیا تھا۔ کل ساتویں جماعت کی طالبات بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی۔

یہ تمام پری یونیورسٹی کورس (پی یو) کورس میں سال اول اور سال دوم کی طالبات ہیں۔

کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے قبل ازیں اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ریاست میں کوئی یکساں ڈریس کوڈ نافذ نہیں کیا گیا ہے تاہم انہوں نے احتجاجی طلبہ سے خواہش کی تھی کہ وہ قواعد پر عمل کریں۔

انہوں نے کہا تھا کہ 94 طلبہ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے صرف 6 طالبات احتجاج کررہی ہیں انہیں قواعد کی پابندی کرنی چاہئے۔

2023 میں اسمبلی انتخابات مقرر ہیں اسی لئے اس مسئلہ کو اچھالا جارہا ہے۔

ایس بی ایم سی نے 1985 میں یکساں ڈریس کوڈ نافذ کیا تھا اور وہ (کالج حکام) اس کی پابندی کرانا چاہتے ہیں۔

پی ایف آئی کرناٹک یونٹ کے جنرل سکریٹری ناصر پاشاہ نے اتوار کے روز بعض کالجس پر نقاب کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button