کسانوں نے وزیر اعظم کا پتلا نذر آتش کرکے‘یومِ دھوکہ دہی’ منایا

ملک بھر کے کسانوں نے حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں سے اپنا دھرنا اٹھایا اور اپنے گھروں کو لوٹ گئے، لیکن اب تک نہ تو حکومت نے کسانوں کے تمام کیس واپس لیے ہیں اور نہ ہی ایم ایس پی گارنٹی ایکٹ پر کوئی کمیٹی بنائی ہے۔

سرسہ: سنیُکت کسان مورچہ کی طرف سے آج پورے ملک میں ’یوم دھوکہ دہی’(وشواس گھات دیوس)کے طور پرمنانے کی کال پر ہریانہ کے ضلع سرسہ میں کسانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے پتلے نذر آتش کرکے احتجاج کیا اور صدر کو میمورنڈم سونپا۔

اس موقع پر بھارتیہ کسان ایکتا کے علاوہ ہریانہ کسان منچ سے پرہلاد بھاروکھیڑا، پگڑی سنبھال جٹہ کے مندیپ ناتھوان، بی کے یو چڈھونی کے سکندر روڑی، ہریانہ کسان سبھا کے کامریڈ سورن سنگھ، آل انڈیا کسان سبھا کے کامریڈ سرجیت سنگھ، بھاودین ٹول پلازہ کے رام چندنے کسانوں کی قیادت کی۔

کسانوں نے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کا پتلا نذر آتش کیا۔

کسانوں نے اکٹھے ہو کر ڈپٹی کمشنر سرسہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں مقدمے کی واپسی، خراب فصلوں کا معاوضہ، نہر کے پانی میں کمی کو پورا کرنے، آوارہ جانوروں کا حل، بڑھاپے کی پنشن کی بحالی، یوریا-ڈی اے پی کھاد کی فراہمی غیر مشروط ٹیوب ویل کنکشن وغیرہ مطالبات شامل ہیں۔

بھارتیہ کسان ایکتا کے صدر لکھویندر سنگھ اولکھ نے اس موقع پر کہا کہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد مرکزی حکومت نے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ آپ دہلی کی سرحد خالی کر کے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔

آپ کے احتجاج کے دوران قائم کیے گئے تمام مقدمے واپس لے لیے جائیں گے، ایم ایس پی گارنٹی قانون پر کسانوں اور حکومت کے درمیان ایک کمیٹی بنا کراس کا حل نکالا جائے گا اور حکومت نے کسانوں کو دیگر مطالبات ماننے کی تحریری یقین دہانی کرائی تھی۔

جس کے بعد ملک بھر کے کسانوں نے حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں سے اپنا دھرنا اٹھایا اور اپنے گھروں کو لوٹ گئے، لیکن اب تک نہ تو حکومت نے کسانوں کے تمام کیس واپس لیے ہیں اور نہ ہی ایم ایس پی گارنٹی ایکٹ پر کوئی کمیٹی بنائی ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button