کولکتہ کے ایک اسکول میں حجاب پہننے پر طالبات کے ساتھ اسکول ٹیچر کی بدسلوکی

ٹیچر سندیپ پریال کچھ عرصے سے حجاب پہننے والی طالبات کے ساتھ بدسلوکی کررہے تھے لیکن چونکہ طالبہ حجاب اتارنے کو تیار نہیں تھی اس لئے ٹیچر نے کلاس روم میں ہراساں کیا۔ طالبہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ٹیچر نے نقاب اتارنے پر مجبور کیا اور فحش اشارے کئے۔

کلکتہ: مشرقی مدنی پور کے ایک اسکول میں حجاب پہننے والی طالبات کو ٹیچر کے ذریعہ ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کلاس میں روم میں جبراً ٹیچر نے طالبہ کو نقاب اتارنے پر مجبور کیا۔ یہ واقعہ مشرقی مدنا پور کے کنکرہاٹی ہائی اسکول میں پیش آیا۔ واقعہ کی خبر پھیلنے کے بعد عوام میں غم و غصہ ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ٹیچر سندیپ پریال کچھ عرصے سے حجاب پہننے والی طالبات کے ساتھ بدسلوکی کررہے تھے۔ لیکن چونکہ طالبہ حجاب اتارنے کو تیار نہیں تھی اس لئے ٹیچر نے کلاس روم میں ہراساں کیا۔طالبہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ٹیچر نے نقاب اتارنے پر مجبور کرتے ہوئے فحش اشارے کئے۔

کنکرہاٹی ہائی اسکول ذرائع کے مطابق ملزم اسکول ٹیچر کا نام سندیپ پاریال ہے۔ الزام ہے کہ استاد سندیپ پڈیال نے آٹھویں جماعت کی طالبہ کو نقاب پہننے کی وجہ سے ہراساں کیا۔

 یہاں تک کہ اس نے خود طالب علم کا نقاب بھی اتار ا۔ یہ معاملہ کلاس میں تمام طلباء کے سامنے ہوا۔ اس واقعہ کے بعد اسکول کے باہر کافی بھیڑ جمع ہوگئی بعد میں ٹیچر نے مائیک کے ذریعہ معافی مانگی مگر لوگوں کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button