کووِڈ کی نئی شکل کا پھیلاؤ خطرناک،دنیا کے کئی ممالک میں ہائی الرٹ

اگر اومیکرون ویرینٹ پایا گیا تو اسے دوسرے سے تعلقات منقطع کرکے 10 دن کے لئے یکاو تنہا ہوجانا پڑے گا چاہے اس نے دونوں ٹیکے لے رکھے ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک لگانا لازمی ہوگا۔

لندن: نئے اور زیادہ متعدی کورونا وائرس اومیکرون نے ہفتہ کے دن مزید یوروپین ممالک میں سر ابھارا ہے۔چند دن قبل ہی جنوبی افریقہ میں اس کا پتہ چلا تھا۔دنیا بھر کی حکومتیں اس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے حرکت میں آگئی ہیں۔ برطانیہ نے ہفتہ کے دن ماسک لگانے کا اصول سخت کردیا۔ اس نے 2 کیسس کا پتہ چلنے کے بعد بین الاقوامی مسافرین کی ٹسٹنگ بڑھادی ہے۔ ہفتہ کے دن جرمنی اور اٹلی میں نئے کیسس کی توثیق ہوئی۔ بلجیم‘ اسرائیل اور ہانگ کانگ سے بھی خبر آئی ہے کہ وہاں مسافرین میں یہ ویرینٹ پایا گیا۔ امریکہ میں ڈاکٹر انتھونی فوچی نے جو متعدی امراض کے سرکردہ ماہر ہیں‘ کہا کہ انہیں حیرت نہ ہوگی کہ امریکہ میں بھی یہ وائرس موجود ہے۔

انہوں نے این بی سی ٹیلی ویژن سے کہا کہ ہم نے ابھی اس کا پتہ نہیں چلایا ہے۔اندیشہ ہے کہ نیا ویرینٹ‘ ویکسین سے ملنے والے تحفظ کو بے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ طویل عرصہ تک لاک ڈاؤن لگانا پڑسکتا ہے۔ وباء کے لگ بھگ 2 برس جو دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد جانیں لے چکی ہے‘ ممالک پھر ہائی الرٹ ہیں۔ کئی نے جنوبی افریقہ سے آنے والی پروازوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ برطانیہ میں وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ 2  افراد میں نئے ویرینٹ کی تصدیق ہوئی ہے ایسے میں احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ آنے والے کسی بھی شخص کو آمد کے دوسرے دن پی سی آر ٹسٹ کرانا ہوگا اور نگیٹیو رپورٹ آنے تک خود کو الگ تھلگ کرلینا ہوگا۔

 اگر اومیکرون ویرینٹ پایا گیا تو اسے دوسرے سے تعلقات منقطع کرکے 10 دن کے لئے یکاو تنہا ہوجانا پڑے گا چاہے اس نے دونوں ٹیکے لے رکھے ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک لگانا لازمی ہوگا۔ سائنسدانوں کے ایک گروپ نے حکومت برطانیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیکہ اندازی پروگرام تیز کردے۔ دونوں ٹیکوں کا درمیانی وقفہ گھٹادیا جائے۔ بوسٹر شاٹ بھی لگایا جائے۔ وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ آج سے ہم ٹیکہ اندازی مہم میں تیزی لارہے ہیں۔ کئی ممالک نے مختلف افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کرنا شروع کردیا ہے۔

 آسٹریلیا‘ برازیل‘ کینیڈا‘ یوروپین یونین‘ ایران‘ جاپان‘ نیوزی لینڈ‘ تھائی لینڈ اور امریکہ نے ایسی پابندیاں لگادی ہیں۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ نئے ویرینٹ کی اچھی طرح اسٹڈی تک اوور ایکشن نہ کیا جائے۔ جرمنی میں 24  نومبر کو جنوبی افریقہ سے آنے والی پرواز کے 2 مسافرین میں اومیکرون کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسرائیل نے کہاہے کہ ملاوی سے آنے والے ایک مسافر میں نئی اسٹرین کا پتہ چلا ہے۔ جنوبی افریقہ سے حال میں لوٹے 800 مسافرین ا پتہ چلایا جارہا ہے۔

کورونا وائرس کی نئی شکل کا جنوبی افریقہ میں نوجوانوں میں تیزی سے پھیلنا ہیلت پروفیشنلس کے لئے باعث تشویش ہے۔ کئی فارما کمپنیوں بشمول آسٹرازینیکا‘ موڈرنا‘ نوواویکس اور فائزر نے کہا ہے کہ وہ نئے وائرس کے مدنظر اپنی ویکسین کو مزید بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ویرینٹ کا ابھرنا بتاتا ہے کہ ڈھیر ساری ویکسین رکھنے والے امیرممالک کو بھی خطرہ درپیش ہے کہ یہ وباء طویل عرصہ تک جاری رہے گی۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button