کوویت میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کے قتل کے الزام میں آندھراپردیش کا شخص گرفتار

وینکٹیش کے کفیل محمد، اس کی بیوی اور بیٹی کے دس دن پہلے قتل کی واردات پیش آئی۔پولیس نے تینوں کے قتل کے شبہ میں وینکٹیش کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جبکہ سواتی کو ہندوستان واپس بھیج دیاگیا۔

آندھراپردیش: کوویت میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کے قتل کی واردات کے الزام پر آندھراپردیش کے ضلع کڑپہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا جو ڈرائیور کے طورپروہاں کام کررہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کے لکی ریڈی پلی منڈل سے تعلق رکھنے والا پی وینکٹیش سال 2018میں ملازمت کے لئے کوویت گیا تھا۔

بعد ازاں مارچ 2020میں اس نے اپنی بیوی کو بھی خلیجی ملک بلالیا۔اس کی بیوی سواتی بھی وہاں گھریلو کام کاج کرتی تھی۔ اسی دوران وینکٹیش کے کفیل محمد، اس کی بیوی اور بیٹی کے دس دن پہلے قتل کی واردات پیش آئی۔پولیس نے تینوں کے قتل کے شبہ میں وینکٹیش کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جبکہ سواتی کو ہندوستان واپس بھیج دیاگیا۔

 سواتی نے کہاکہ اس کے شوہر وینکٹیش کا کویت میں ہوئے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔80سالہ محمد،اس کی 62سالہ بیوی اور ان کی18سالہ بیٹی کا ایک ہفتہ قبل مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا اور وینکٹیش کو اس قتل کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔ سواتی نے بتایا کہ محمد کی دوسری بیوی اور رشتہ دار ان کے قتل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان میں جھگڑے ہوتے تھے۔

سواتی نے کہاکہ محمد کی بیوی وینکٹیش کو دوسری ملازمہ کے سلسلہ میں اکثر فون کرتی تھی جس پر شبہ کی بنیاد پر پولیس نے وینکٹیش کو حراست میں لے لیا۔سواتی نے کہاکہ اس کا شوہر ویزا کے سلسلہ میں ہی اپنے مالک کے مکان کو کبھی کبھارجایاکرتاتھا۔سواتی نے کہا کہ اسے بھی چھ دن تک کویت میں قید رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سواتی نے کہا کہ اسے جیل سے رہا کیا گیا کیونکہ وکیل نے اس کی نمائندگی کی جس کے پاس وہ کام کرتی تھی۔

 اس نے کڑپہ ضلع کلکٹر سے اپنے شوہر کی حفاظت کی اپیل کی۔ وینکٹیش کے والدین نے ریاستی اور مرکزی حکومت پر زور دیاکہ وہ ان کے بیٹے کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ وینکٹیش جو کہ روزگار کے لیے کوویت گیا تھا، نے ان تینوں کا قتل کیا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وینکٹیش اچھے اخلاق کے ساتھ اچھے آداب کا انسان ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button