کپل مشرا کیخلاف ایف آئی آر کا دہلی ہائیکورٹ جلد فیصلہ کرے : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ وہ مقررہ مدت میں معاملہ کا فیصلہ کردے۔ درخواست گزاروں کی دلیل ہے کہ یہ ایف آئی آر درج کرنے کا سیدھا سیدھا کیس ہے کیونکہ تقاریر کا ویڈیو ثبوت پبلک ڈومین میں پہلے سے موجود ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن دہلی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ ایک درخواست کا تیزی سے ترجیحاً اندرون 3 ماہ تصفیہ کردے جس میں بی جے پی قائدین کپل مشرا‘ انوراگ ٹھاکر‘پرویش ورما اور ابھئے ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ ان قائدین پر گزشتہ برس کے دہلی فسادات کے دوران نفرت بھڑکانے والے بیانات دینے کا الزام ہے۔

 درخواست گزاروں کے وکیل کولین گونزالویز نے جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی بنچ سے کہا کہ درخواست گزار ناامید ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ہائی کورٹ میں کارروائی تاخیر سے چل رہی ہے حالانکہ سپریم کورٹ مقررہ مدت میں معاملوں کی یکسوئی کی ہدایت دے چکی ہے۔

گزشتہ برس مارچ میں سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ وہ مقررہ مدت میں معاملہ کا فیصلہ کردے۔ درخواست گزاروں کی دلیل ہے کہ یہ ایف آئی آر درج کرنے کا سیدھا سیدھا کیس ہے کیونکہ تقاریر کا ویڈیو ثبوت پبلک ڈومین میں پہلے سے موجود ہے۔

تاخیر غیرمنصفانہ ہے۔ بنچ نے کہا کہ وہ صرف ہائی کورٹ سے کہہ سکتی ہے کہ وہ معاملہ کی سماعت کرے۔ صرف یہی راحت بنچ دے سکتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ ہم ہائی کورٹ سے کہتے ہیں کہ وہ درخواست کو جلد نمٹادے۔ ترجیحاً اندرون 3 ماہ اسے نمٹادیا جائے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button