کیا آپ نے ”منا بھائی ایم بی بی ایس“ دیکھی ہے؟

سپریم کورٹ نے پیر کے دن مہاراشٹرا کے ایک خانگی میڈیکل کالج کے خلاف سخت تبصرہ کیا۔ اس کالج پر الزام ہے کہ اس نے مریضوں کے داخلہ کا جھوٹا ریکارڈ رکھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے دن مہاراشٹرا کے ایک خانگی میڈیکل کالج کے خلاف سخت تبصرہ کیا۔ اس کالج پر الزام ہے کہ اس نے مریضوں کے داخلہ کا جھوٹا ریکارڈ رکھا۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے میڈیکل کالج کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی سے کہاکہ یہ وہ کیس ہے جس میں پیڈیاٹرک وارڈ میں تمام ایسے بچے شریک کئے گئے جنہیں کوئی بیماری تھی ہی نہیں۔

جسٹس چندرچوڑ نے ابھیشیک منو سنگھوی سے پوچھا کہ کیا آپ نے منا بھائی ایم بی بی ایس فلم دیکھی ہے۔

بنچ میں شامل دوسرے جج جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا کہ ہاسپٹل میں فیک مریض کیسے ہوسکتے ہیں۔

اس پر میڈیکل کالج کی نمائندگی کرنے والے ایک اوروکیل ندھیش گپتا نے بتایا کہ کالج 1992میں قائم ہوا تھا اور اس پر الزامات ایک گمنام شکایت کے بعد لگے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کالج کانگریس کے ایک رکن اسمبلی کا ہے۔

کالج میں سالانہ 100 ایم بی بی ایس طلبا کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ ہاسٹل رومس اور نرس رومس نہ ہونے کے الزام پر گپتا نے کہا کہ حکا م کئی سال سے اس کالج کے معائنے کرتے رہے ہیں اور پہلے کبھی یہ مسئلہ نہیں اٹھا۔

جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ حکام کو معائنہ کے دوران (14 جنوری کو) یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ نرس چارٹ میں مریضوں کی جانکاری پہلے سے درج تھی۔

14 جنوری کو جو مریض شریک کئے گئے تھے وہ بیمار نہیں بلکہ تندرست تھے اور ٹالنے والے جواب دے رہے تھے۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کالج میں کوئی ایکسرے مشین نہیں ہے۔ اس کالج کے طلبا کو کہیں اور داخلہ دیا جائے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button