”کیا چیف منسٹر کا عہدہ برائے فروخت ہے؟“ سدارامیا کا بی جے پی پر طنز

 کانگریس کے قد آور لیڈر نے کہا کہ اگر تحقیقات نہیں کی گئی تو یہ تاثر ملے گا کہ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے چیف منسٹر بننے کے لیے کروڑہاروپیوں کی ادائیگی کا اعتراف کرلیا۔

بنگلورو: کانگریس کے سینئر لیڈر سدارامیا نے استفسار کیا کہ کیا بی جے پی نے خواہشمند امیدواروں کو رقم کے عوض چیف منسٹر کی سیٹ کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے حکمراں جماعت کے رکن اسمبلی کے اِن الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ اقتدار کے دلالوں نے ان سے (یتنال سے) رجوع کیا اور انہیں اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے 2500کروڑ روپئے رشوت ادا کرنے کو کہا۔

 یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب ریاست کی بسواراج بومئی حکومت بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کررہی ہے۔ اسے سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ صرف مناسب تحقیقات سے سچائی بے نقاب ہوگا۔ یتنال کے دعوؤں کے تناظر میں ریاستی اسمبلی میں قائد اپوزیشن سدارامیا نے پوچھا کہ ”کیا چیف منسٹر کی کرسی برائے فروخت ہے؟“یتنال نے ان سے رجوع ہونے والے افراد کا نام نہیں لیااور اتنا ہی کہا کہ ”دھوکہ باز کمپنیاں“ ہیں۔

 کانگریس کے قد آور لیڈر نے کہا کہ اگر تحقیقات نہیں کی گئی تو یہ تاثر ملے گا کہ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے چیف منسٹر بننے کے لیے کروڑہاروپیوں کی ادائیگی کا اعتراف کرلیا۔ سدارامیا نے کہا کہ یتنال کے بیان سے ظاہر ہوا کہ ان کے پاس بی جے پی کی بے قاعدگیوں کے تعلق سے بے حد معلومات ہیں اور سچائی کو بے نقاب کرنے ان سے پوچھ تاچھ کی جانی چاہیے۔

“ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اب تک لوگ اس بھرم میں تھے کہ بی جے پی میں مقننہ جماعت چیف منسٹر کو منتخب کرتی ہے۔ اب یتنال نے انکشاف کیا کہ چیف منسٹر کی کرسی‘ نیلامی کے ذریعہ خریدی جاتی ہے۔ بی جے پی کے سابق وزرائے اعلیٰ کی جانب سے خرچ کردہ جملہ رقم کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔“ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزارتوں سمیت تمام دیگر عہدوں کی بھی قیمتیں مقرر ہیں۔

“ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ یتنال کے الزامات اور بی جے پی کے اسکامس جیسے بلدی ٹھیکے داروں سے 40 فیصد کمیشن، پولیس سب انسپکٹران بھرتی اسکام وغیرہ کے درمیان تعلق ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔جن لوگوں نے چیف منسٹر اور وزیر بننے رقم ادا کی اب کمیشن کا کاروبار کررہے ہیں۔

اس سے ایک معصوم فرد کی موت ہوگئی اور کئی دیگر روشن مستقبل سے محروم ہوگئے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یتنال کے الزامات نئے نہیں ہیں اور وہ ماضی میں بھی چیف منسٹرس اور وزراء کے اسکامس میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرچکے ہیں، سدارامیا نے تعجب کا اظہار کیا کہ بی جے پی ہائی کمانڈ خاموش کیوں ہے۔ کیا یہ ان کی (بی جے پی ہائی کمانڈ) منظوری ہے؟

سدارامیا نے کووڈ19سے ہونے والی اموات کے غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر وزیراعظم نریندر مودی سے ملک سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے 5.24لاکھ اموات ہوئیں جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ہندوستان میں جنوری2020سے دسمبر2021تک کورونا وباء سے 47لاکھ اموات ہوئیں۔

سدارامیا نے ہفتہ کو کہا کہ کووڈ19 کے تعلق سے وزیراعظم کا جھوٹ ناقابل قبول ہے۔ محکمہ صحت نے بھی غلط اعداد و شمار پیش کیے۔ ہم‘ چامراج نگر کے سرکاری دواخانہ میں بیک وقت39 اموات دیکھ چکے ہیں۔ میں اسمبلی میں کہہ چکا ہوں کہ ریاست میں کووڈ19سے پانچ لاکھ افراد اور ملک گیر سطح پر 50لاکھ افراد فوت ہوچکے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ کووڈ19اموات کا حساب کتاب ہونا چاہیے،مگر مودی کو غیردرست اعداد وشمار فراہم کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔ حکومت نے کووڈ19اموات پر ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ مسترد کردی ہے اور سچائی کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔“کووڈ19سے فوت ہونے والے شہریوں کے قانونی وارثین کو 4لاکھ روپئے معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی/منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button