کیا ہمارا ملک لاقانونیت کی طرف بڑھ رہا ہے؟

محمد ضیاءالدین۔پربھنی

2014 میں جب نریندر مودی کی سرکار بننے کی پرجوش پیشین گوئیاں کی جارہی تھی تب قومی کہلانے والا میڈیا تو گویا آپے ہی میں نہیں تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اپنی خوشی کا اظہار کرے، تاہم اس وقت بھی کچھ مبصرین و تجزیہ نگار یہ خیال ظاہر کررہے تھے کہ اس تبدیلی کا مطلب سواے فاشزم اور نراج کے کچھ نہیں ہوگا ۔اس وقت سننے والوں کی بڑی تعداد کے لیے یہ ایک بے وقت کی راگنی تھی جبکہ غور و فکر کرنے والوں نے بھی اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اُڑادیا تو کچھ لوگوں نے اسے ناقابل عمل قرار دیا، لیکن آج آٹھ سال بعد یہ بات خدشات قیاس آرئیوں اور سوالات سے کافی آگے چلی گئی ہے۔ دریاﺅں میں پانی کی سطح بتانے کے لیے اسکیل ہوتی ہے اور مختلف مدارج کو مختلف رنگوں سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جبکہ خطرے کے نشان کی نشاندھی لال رنگ سے کی جاتی ہے اور دریا میں طغیانی کی صورت میں حفاظتی عملے کی نظر اسی لال نشان کی طرف ہوتی ہیں ۔
آج ملک عزیز فاشزم اور نراج کے طوفان کے خطرے کی زد میں ہے اور محبان ملک اسے دہشت زدہ نظروں سے لال نشان کی طرف بڑھتے ہوے دیکھ رہے ہیں۔ اب بات انتباہ کی نہیں رہی بلکہ یہ خطرہ حقیقت بن کر سروں پر منڈلا رہا ہے اور لوگ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ لاقانونیت نے ہمارے دروازے پر دستک دے دی ہے اور ہمیں اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بے قرار ہے۔ پچھلے دنوں ایک مراٹھی نیوز چینل پر اسی موضوع پر ایک ڈبیٹ ہوا جس میں مذکورہ بالا خیالات ظاہر کیے گئے۔ اس کا بنیادی موضوع تھا۔ تین ریاستوں کی پولیس کا آپس میں گتھم گتھا ہوجانا اور ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنا وہ بھی ایک نہایت شر انگیز شخص کے لیے جس کے خلاف وارنٹ تھا۔ شرکاءنے اسے ملک کی تاریخ کا نہایت مذموم واقعہ قرار دیتے ہوے اس شرمناک معاملے کے لیے وزارت داخلہ کو ذمہ دار قرار دیا ۔شرکا ءمیں موجود ایک ریٹائرڈ پولیس آفسر نے کہا کہ یہ ملک میں جاری لاقانونیت کی ایک مثال ہے کہ ایک ہی ملک کی مختلف ریاستوں کی پولیس ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہے ۔اگر پولیس ہی مجرم کو بچانے کے لیے پولیس سے بھڑجاے تو کیسے اسے قانون کی حکمرانی کہا جاسکتا ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ بی جے پی کی اس سرکار سے قبل دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا جب مختلف ریاستوں کی پولیس ایک دوسرے کے مد مقابل آگئی ہو۔گو کہ لاقانونیت کی بات آج کہی جارہی ہے لیکن لاقانونیت کی شروعات تو تب ہی ہوگئی تھی جب پہلو خان کے گھر غنڈوں کی بھیڑ نے جاکر حملہ کیا تھا۔ لاقانونیت بے گناہ لوگوں کی ماب لنچنگ، غنڈوں کی بھیڑ کی جانب سے مسلمانوں کو یکا دکا دیکھ کر حملے کرنا بھی تھی۔ لاقانونیت، لوجہاد کے نام پر مسلم لڑکوں کو گھیر کر مارنا بھی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے پے درپے لاقانونیت کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور اس لیے ہورہے ہیں کہ لاقانونیت میں ملوث لوگوں کو حزب اقتدار کا بھر پور ساتھ جو ہے اور ملک یہ سارا تماشا خاموشی سے دیکھ رہا ہے ۔
اس ملک نے یہ شرمناک مناظر بھی دیکھے ہیں کہ وردی میں ملبوس اور فرائض پر موجود پولیس والوں کو کس طرح سنگھ پریوار کے غنڈوں نے بر سر عام تھپڑ گھونسوں سے مارا اور یہ کہ کمزوروں پر رعب جتانے والی بلکہ ان پر بےجا ظلم کرنے والی پولیس ان غنڈوں کے سامنے بھیگی بلی بنی نظر آئی۔ ہم نے لاقانونیت کا وہ چہرہ بھی دیکھا کہ کس طرح ایک کمسن بچی پر کئی ایک جنسی درندوں نے حملہ کرکے اس کی جان لے لی اور جب اس معصوم پر ظلم کرنے والے بھیڑیوں پر قانونی گرفت کی بات آئی تو محض اس لیے کہ متاثرہ مسلمان جبکہ ظالم اور زانی اکثریت سے تعلق رکھتے تھے، ان ظالموں اور بھیڑیوں کو بچانے کے لیے غندہ گرد عناصر نے ترنگا یاترا نکال کرقومی پرچم کی توہین و تذلیل کی۔یہی نہیں بلکہ اس ملک نے یہ بھی دیکھا کہ ملک کی راجدھانی میں اور عین سرکار کی ناک کے نیچے اس ملک کے دستور کو غندہ گرد عناصر نے بر سر عام نظر آتش کردیا اور کوئی کارروائی نہیں۔ یہی نہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں جن میں مجرم کھلے عام شان سے گھوم رہے ہیں، شرط صرف اتنی ہے کہ وہ بر سر اقتدار جماعت اور بھگوا تنظیموں سے تعلق رکھتے ہوں۔ واقعات کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ اس ملک سے دستور و قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔ کہیں عدالتیں مجرموں کو مسکراتے ہوے باعزت بری کررہی ہیں تو کہیں عدالتوں کے احکامات کو طاق پر رکھا جارہا ہے۔
واقعات کے اس تسلسل پر ایک عام تبصرہ یہی ہوسکتا ہے کہ ملک لاقانونیت کی طرف جارہا ہے، لیکن اس ڈبیٹ میں ایک سماجی شخصیت نے نہایت چونکانے والی باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کوئی اگر یہ سمجھتا ہو کہ کچھ غنڈہ گرد عناصر کی شرانگیزیوں کی وجہ سے یہ ملک نراج یا لاقانونیت کی طرف جائے گا تو انہیں اپنی غلط فہمی کو دور کردینا چاہیے کہ ملک نراج کی طرف جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا منووادی طبقہ جو بد قسمتی سے آج بر سر اقتدار ہے، ایک منظم سازش کے تحت ایسے حالات پیدا کر رہا ہے کہ ملک میں لاقانونیت پھیلے اور خانہ جنگی کے حالات بن جائیں تاکہ ان حالات کو وہ اپنے منشاءکے مطابق استعمال کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ اس حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام اقدامات کا جائزہ لیا جاے تو بہ آسانی سمجھ میں آجائے گا کہ کس طرح یہ اپنے ایجنڈے کو روبہ عمل لانے ملک کے دستور کو ناقابل عمل و ناقابل قبول بتانے کے لیے ایسے حالات جان بوجھ کر پیدا کررہے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر بے چینی پھیلے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حکومت نے تمام دستوری اداروں کو اپنے زیر اثر لے لیا ہے اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جارہا ہے ۔ اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے ای ڈی جیسی ایجنسی کا بے محابہ استعمال ہورہا ہے اور اس معاملے میں سرکار کو اپنے دہرے رویہ پر ذرا بھی پشیمانی نہیں ہے۔
اپوزیشن کے وہ لوگ جن کو کبھی ان کے معاملات کے لیے ای ڈی کی نوٹسیں بھیجی گئی تھیں جیسے ہی وہ سرکار کے ہمنوا بن گئے، ان کے سارے معاملات ٹھنڈے بستے میں ڈال دیے گئے وہ بھی دھڑلے کے ساتھ۔ جہاں غیر بی جے پی حکومتیں ہیں وہاں ان حکومتوں کے خلاف شر پسند عناصر کو کھڑا کرکے ان کی کھل کر پشت پناہی کی جارہی ہے۔ ایک طرف تو اپوزیشن کے بڑے بڑے اور نمایاں لیڈروں کو مختلف الزامات کے ذریعہ برسوں جیلوں میں سڑایا جارہا ہے، عدالتیں ان کی شنوائی میں ٹال مٹول کرکے ان کی حراست کی مدت کو بڑھاتی جارہی ہیں دوسری طرف یہ تماشا دیکھنے مل رہا ہے کہ اگر غیر بی جے پی حکومتیں بی جے پی کے ایجنٹ ان اشرار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرتی ہیں تو عدالتیں فوری حرکت میں آکر ان کو ضمانت دے دیتی ہیں، اسے کیا سمجھا جاے ۔ کیا ایسی حرکتیں لوگوں کو مشتعل نہیں کریں گی۔
جنوبی ہندوستان ہمیشہ ہی سے ہندی کا سخت مخالف رہا ہے ۔ اس سے قبل اس معاملے میں یہاں کے لوگوں کے جذبات شدید احتجاج کی شکل میں سامنے آے ہیں۔ اتنی شدت کہ ملک کے ٹکڑے ہونے کے خدشات لاحق ہوگئے اور اب جب کہ یہ معاملہ گیا گزرا ہوگیا تھا، اس باسی کڑھی میں اس وقت ابال آگیا جب ہندی کو ملک گیر سطح پر رایج کرنے کے منصوبے ظاہر کیے گئے اور یہ بات کہنے والا کوئی اور نہیں اس ملک کا وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ذمہ دار شخص ہو تو کیا ان خدشات کو تقویت نہیں ملتی کہ ملک میں اضطراب پھیلانے کی کوشش میں نچلی سطح کے بھگوادھاری غنڈہ عناصر ہی نہیں بلکہ اس معاملے کے تار اوپر سے جڑے ہوے ہیں۔ غرض کہ معاملات و واقعات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے بین السطور میں یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ حالات کو کدھر لے جایا جارہا ہے۔
گورنرس ریاست کے آئینی سربراہ ضرور ہوتے ہیں، لیکن وہ کابینہ کی منظوری اور کابینہ کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے پابند ہوتے ہیں، لیکن انھیں کھلے عام ریاستی حکومت کے خلاف کام کرنے کی نہ تو آزادی ہے نہ ہی یہ کبھی روایت رہی۔ یہ ضرور ہے کہ سابق سرکاروں نے ریاستوں میں موجود حزب اختلاف کی سرکاروں کے خلاف گورنرس کو استعمال کیا لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے غیر بی جے پی ریاستوں کے گورنرس نے جو ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کیا ہے اور جس طرح وہ کھل کر بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں، اس سے ان ریاستوں کی حکومتوں میں گورنرس کے تئیں سخت ناراضگی اور بے چینی پائی جاتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ لاوا بھی پھوٹ پڑے ۔
سوشل میڈیا کی مہربانی سے دنیا اور اس کے معاملا ت آج عام آدمی کی جیب ہی نہیں بلکہ ہاتھ میں ہیں اور ہر کوئی جام جم والا جمشید بنا ہوا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر سری لنکا میں جاری لاقانونیت اور خانہ جنگی کی تصاویر اور تفاصیل سامنے آرہی ہیں جنھیں دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ خانہ جنگی کیا ہوتی ہے اور لاقانونیت اور اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ آج کل لوگ سری لنکا کی صورت حال پر کھل کر تبصرے کر رہے ہیں اور ایک بڑی اکثریت ان کی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ بہت جلد یہ آگ ہم کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گی ۔ لوگ یاد دلارہے ہیں کہ یہ وہی سری لنکا ہے جہاں جھوٹے راشٹر واد کی تیز مہم چلائی گئی تھی۔ اقتدار کے حصول کے لیے مذہبی جنون بھڑکایا گیا تھا۔ تہذیب کے غلبے کے لیے اقلیتوں کے تشخص کو ختم کرنے کے لیے نت نئی شر انگیزیاں کی جارہی تھیں ۔ بر سر اقتدار طبقہ اسے اپنی کامیاب حکمت عملی سمجھ رہا تھا جس کے سبب اس کے ایک طویل عرصے تک اقتدار پر قابض رہنے کے امکانات روشن ہوگئے تھے۔ وہاں بھی اس مذہبی عصبیت اور نفرت کے ماحول کو فروغ دینے والے اندھ بھکتوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور بالاخر سب نے مل کر اس ملک کا بیڑہ ہی غرق کردیا ۔ حکمران ٹولہ اپنی پستولوں سے اپنے وجود کو مٹانے پر مجبور ہوگیا ہے، وہ سارے اندھ بھکت جو ان حالات کے لیے ذمہ دار ہیں، اٹھا اٹھا کر فی الحال تو کچرے کی گاڑیوںمیں پھینکے جارہے ہیں۔ قصر صدارت آگ کی لپٹوں میں نظارہ عبرت بنا ہوا ہے، وہ جنھیں اپنی طاقت اور اقتدار پر گھمنڈ تھا، ملٹری بیس میں چوہوں کی طرح دبکے ہوئے ہیں۔ وقت اپنی پوری قہر سامانی سے ان پر ٹوٹا ہوا ہے اور لوگ اپنی پھٹی آنکھوں سے جھوٹے راشٹرواد کا انجام دیکھ رہے ہیں لوگ کھل کر ان وجوہات کا تذکرہ کررہے ہیں جن کے سبب آج سری لنکا خس و خاشاک میں لوٹ رہا ہے اور اپنے ملک میں جاری روش کو بھی اس سے جوڑکر دیکھ رہے ہیں اور تخیل میں ان کی آنکھیں انجام کی مماثلت کو دیکھ رہی ہیں۔ اللہ خیر کرے ۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button