کے سی آر کے خلاف کرپشن کے الزامات تحقیقات میں تاخیر کیوں؟: ریونت ریڈی

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات ہیں تو مرکزی حکومت ان کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیوں نہیں کرتی ہے؟ کانگریس ارکان پارلیمنٹ آج نئی دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

حیدرآباد: صدر ٹی پی سی سی اے ریونت ریڈی، این اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی (کانگریس ارکان پارلیمنٹ) نے کہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات ہیں تو مرکزی حکومت ان کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیوں نہیں کرتی ہے؟ کانگریس ارکان پارلیمنٹ آج نئی دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ امیت شاہ نے کل تلنگانہ بی جے پی قائدین  سے ملاقات کے موقع پر کہا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر بڑے پیمانہ پر کرپشن اور بدعنوانیوں میں ملوث ہیں اور ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ثبو ت موجود ہیں تو کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟۔ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں اندورنی ساز باز ہے۔

دونوں جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات عائد کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ صدر ریاستی بی جے پی بنڈی سنجے اور مرکزی وزیر کشن ریڈی چیف منسٹر کے سی آر کو کرپشن کے الزامات میں جیل بھیجنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے صرف ڈرامہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی قائدین نئی دہلی کی سڑکوں پر گھومنے سے کسانوں کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وزراء مرکزی وزیر زراعت سے ملاقات کے موقع پر صرف مانسون کی فصل خریدی پر بات کی ہے۔ جبکہ ربیع سیزن کی فصل خریدی کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی۔

 انہوں نے کہا کہ کے سی آر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اشاروں دھان کی خریدی کے مسئلہ پر ڈرامہ کررہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر سیاسی حکمت کے نام پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ این اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت میں کرپشن سے ہر کوئی واقف ہے لیکن مرکز، ریاستی حکومت کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی  گئی۔

 اگر ریاستی بی جے پی قائدین میں اپنے الزامات ثابت کرنے میں سنجیدہ ہیں تو وہ سنٹرل ویجلنس کمیشن اور سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کیوں نہیں کرواتے؟ ایس ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ سے متعلق سوال پر اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر انہوں نے آواز بلند کی تھی۔ تاہم مرکزی وزیر نے بتایا کہ ٹی آر ایس حکومت نے اس مسئلہ پر ان سے کوئی نماندگی نہیں کی ہے۔ اس سے ظاہر ہتوتا ہے کہ تلنگانہ حکومت ایس ٹی طبقہ سے کتنی دلچسپی رکھتی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button