کے ٹی آر کے حلقہ اسمبلی میں کسانوں کی خودکشی شرمناک: شرمیلا

کسانوں میں بیداری کی مہم کے ایک حصہ کے طور پر شرمیلا نے گمبھی راؤ پیٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کے ٹی آر کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ کم از کم خیرسگالی کے طور پر کسانوں کو معاوضہ دیا جائے؟

راجنا سرسلہ ؍ حیدرآباد: وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی صدر وائی ایس شرمیلا نے کہا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیرقیادت ٹی آر ایس حکومت کو شرم آنی چاہیے کہ چیف منسٹر کے لڑکے اور ٹی آر ایس کے کارگذار صدر و ریاستی وزیر کے حلقہ اسمبلی میں ہی کسانوں کی خودکشی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

کسانوں میں بیداری کی مہم کے ایک حصہ کے طور پر شرمیلا نے گمبھی راؤ پیٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کے ٹی آر کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ کم از کم خیرسگالی کے طور پر کسانوں کو معاوضہ دیا جائے؟ انہوں نے سوال کیا کہ قرض سے استثنیٰ اسکیم کیوں نافذ نہیں کی گئی ہے؟ اس سے کس نے روکا ہے؟۔

 باپ بیٹے دونوں کو شرم آنی چاہیے کہ ٹی آر ایس کے 8 سالہ دورِ حکومت کے باوجود کسان معاشی طور پر بااختیار نہیں بنے ہیں اور خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں کی خودکشی کے واقعات ٹی آر ایس ایس حکومت پر ایک دھبہ ہیں اور اس کے لیے چیف منسٹر ہی ذمہ دار ہیں۔ شرمیلا نے کہاکہ ملک کے کسی بھی چیف منسٹر بشمول کے سی آر کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ وہ کسانوں سے دھان نہیں خریدیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسان صرف چاول نہیں بلکہ ان تمام فصلوں کی کاشت کریں گے جن پر انہیں امدادی قیمت حاصل ہورہی ہے۔ چاول کے لیے اقل ترین امدادی قیمت مقرر ہے۔ چیف منسٹر اس سے انکار نہیں کرسکتے۔ وہ یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتے، کیوں کہ وہ چیف منسٹر ہیں، چیف اگزیکٹیو آفیسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر دھان نہ خریدیں تو ان کی حکومت گرا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی خودکشی کے واقعات کے سی آر کی جانب سے کیا جانے والا قتل ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button