گانجہ فروخت کرنے کے الزام میں خاتون انجینئر گرفتار

پولیس نے ایک خاتون سافٹ ویر انجینئر کو گرفتار کرلیا ہے جن پر آئی ٹی ملازمین اور نوجوانوں کو منشیات سپلائی کرنے کا الزام ہے۔

حیدرآباد: پولیس نے ایک خاتون سافٹ ویر انجینئر کو گرفتار کرلیا ہے جن پر آئی ٹی ملازمین اور نوجوانوں کو منشیات سپلائی کرنے کا الزام ہے۔

پولیس نے جمعہ کے روز بتایا کہ ملزمہ کے مانسی کو ضلع میڑچل ملکاجگری کے کوم پلی میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق وہ، اپنے شوہر اور دیگر 2 افراد کے ساتھ12مارچ کو اپنے کسٹمرس کو گانجہ فروخت کرچکی ہیں۔

پولیس نے 2نوجوانوں کو 1.2 کیلو گانجہ کے ساتھ گرفتار کرلیا تاہم یہ جوڑا کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ دونوں گرفتار شدگان کی اطلاع کی بنیادپولیس، جوڑے کی تلاشی کررہی تھی۔

آخر کار پولیس نے جمعرات کی شب مانسی اور اس کے شوہر ایم مدن کو گرفتار کرلیا۔ آندھرا پردیش کی متوطن مانسی، میڑچل، ناچارام، ملکاجگری، بنجارہ ہلز اور پنجہ گٹہ میں اپنے کسٹمرس کو گانجہ فروخت کرتی تھی۔

بھوپال سے انجینئر نگ کی تکمیل کے بعد وہ چند سال قبل حیدرآباد منتقل ہوئی تھی اور وہ شہر میں ایک آئی ٹی کمپنی میں کام کررہی تھی۔ یہ خاتون، اپنے شوہر کے ساتھ ناچارام میں مقیم تھی۔

ڈرگس لینے والے افراد کا تعلق مختلف شعبہ جات سے بتایا گیا۔ خاتون سافٹ ویر انجینئر، گانجہ فروخت کرنے والوں سے کامیابی کے ساتھ نمٹتی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ طلبہ اور سافٹ ویر انجینئروں کی ایک بڑی تعداد نشہ کی عادی ہے۔ پولیس نے جمعرات کے روز بتایا کہ ڈرگس کی زائد مقدار استعمال کرنے سے شہر میں کل، ایک23سالہ انجینئرہلاک ہوگیا۔ مہلوک، گذشتہ 2برسوں سے بے روزگار تھا۔ دھیرے دھیرے وہ نشہ کا عادی ہونے لگا۔

کاک ٹیل کی زائد مقدار لینے سے عصبی نظام متاثر ہوگیا۔ اس کاجسم تقریباً مفلوج ہوگیا تھا۔ ڈی سی پی، حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ وٹکنالوجی چکراورتی نے یہ بات بتائی۔

تبصرہ کریں

Back to top button