گجرات میں کانگریس سے مقابلہ مقصود: اسد اویسی

اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے اتوار اور پیر کے روز گجرات کا دورہ کیا۔ انہوں نے احمد آباد میں ایک اور ضلع بناس کنٹھا کے وڈگام تعلقہ میں ایک اور جلسہ عام سے خطاب کیا۔

احمد آباد: گجرات کی سیاست میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا داخلہ کی شاید کوئی زیادہ اہمیت نہیں، لیکن اس کی وجہ سے کانگریس پارٹی یقینا متاثر ہوگی۔ مسلم برادری کے قائدین کو اندیشہ ہے کہ اگر اے آئی ایم آئی ایم مسلم اکثریتی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہے تو ریاستی اسمبلی میں ان کے نمائندوں کی تعداد مزید کم ہوجائے گی۔

 قبل ازیں ریاستی اسمبلی میں کم از کم 8 مسلم ارکانِ اسمبلی ہوا کرتے تھے۔ 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں ان کی تعداد گھٹ کر تین ہوگئی تھی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے اتوار اور پیر کے روز گجرات کا دورہ کیا۔ انہوں نے احمد آباد میں ایک اور ضلع بناس کنٹھا کے وڈگام تعلقہ میں ایک اور جلسہ عام سے خطاب کیا۔

میٹنگس کے مقامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ان حلقوں کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں کبھی کانگریس ہوا کرتی تھی، اس کے نمائندے منتخب ہوا کرتے تھے۔ چھاپی وہ مقام ہے جہاں شہریت ترمیمی قانون اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف سب سے بڑا احتجاج کیا گیا تھا۔ چھاپی وڈگام اسمبلی حلقہ کے تحت ہے، جو درجِ فہرست ذاتوں کے لیے محفوظ ہے۔

 2017ء میں جگنیش میوانی یہاں سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے اور اب انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 58.47 لاکھ ہے، جو مجموعی آبادی کا 9.67 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار کے لحاظ سے اسمبلی میں 18 نمائندے ہونے چاہیے تھے۔

کم از 20 اسمبلی حلقے ہیں، جہاں مسلمانوں کا ووٹ شیئر 20 فیصد سے زیادہ ہے، لیکن یہاں سے بمشکل دو یا تین مسلمان اسمبلی کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ کانگریس قائد اور 2017ء کے انتخابات میں بھج اسمبلی حلقہ کے امیدوار آدم چاکی نے بتایا کہ اب اگر مجلس اتحاد المسلمین میدان میں داخل ہوتی ہے تو مسلم ووٹ مزید بٹ جائیں گے اور کانگریس پارٹی کے مواقع متاثر ہوں گے۔

چاکی نے کہا کہ کم از کم 34 تا 35 نشستوں پر مسلمانوں کا ووٹ شیئر 15 تا 16 فیصد ہے، لیکن جماعتیں کوئی جوکھم مول نہیں لے رہی ہیں اور زیادہ مسلم امیدواروں کو میدان میں اتار رہی ہیں۔ چاکی کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم دو حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، جن میں ضلع کچ، بھج، جام نگر کی ابداسا کے علاوہ جمال پور کھڑیا اور داریا پور کی دو نشستیں شامل ہیں۔

ضلع بھڑوچ کے جمبوسار، وگرا اور بھڑوچ اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی جانب سے کسی کو امیدوار بنائے جانے کے امکانات کم ہیں۔ بی جے پی اقلیتی سل کے صدر لوکھن والا نے بتایا کہ بی جے پی کو اے آئی ایم آئی ایم کے میدان میں اترنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ مجلس، مسلم قوم پرستوں کے ووٹوں کو منقسم نہیں کرسکتی جو بی جے پی کے ایک قومی نظریہ میں یقین رکھتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button