گورنر خطبہ کے بغیر اسمبلی کے بجٹ سیشن کا کل سے آغاز

حیدرآباد: گورنر کے روایتی خطبہ کے بغیر تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن جو 7مارچ سے شروع ہوگا، کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اس بار حکومت نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے گورنر کے خطبہ کے بغیر اسمبلی کا بجٹ سیشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیشن کے پہلے دن پیر کے روز وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نیا بجٹ پیش کریں گے جبکہ وزیر آر اینڈ بی پرشانت ریڈی کونسل میں موازنہ پیش کریں گے۔

مقننہ کے قواعد اور روایت کے مطابق نئے مقننہ اور سالانہ سیشن کے پہلے دن گورنر اسمبلی اور کونسل کے ارکان سے مشترکہ خطاب ضرور کرتے ہیں۔گورنر عموماً پہلے دن اسمبلی کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتے ہیں۔

ان کے خطبہ کے بعد حکومت قرار داد منظور کرتے ہوئے تحریک تشکر پر ایوان میں مباحث کراتی ہے۔چیف منسٹر آفس سے جاری کردہ بیان میں حکومت کے فیصلہ کی تائید کی گئی۔ اسمبلی کے قبل ازیں سیشن کو جو8/ اکتوبر کو ختم ہوا ہے، ملتوی نہیں کیا گیا تھا

اس کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ سیشن بھی سابق سیشن کا ہی حصہ ہے۔ اس لئے مقننہ کے دونوں ایوانوں سے گورنر کے مشترکہ خطاب کی ضرورت نہیں رہے گی تاہم اس معاملہ کو اسپیکر کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔

چیف منسٹرآفس ذرائع نے بتایا کہ گورنر کے خطبہ کے بغیر اسمبلی کے بجٹ سیشن کا آغاز پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔

متحدہ ریاست اے پی میں 1970 اور 2014 میں ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے۔ ریاست مغربی بنگال کے اسمبلی بجٹ سیشن(سال2020-21) بھی گورنر کے خطبہ کے بغیر شروع ہوا تھا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر اور گورنر ڈاکٹر تمیلی سائی سوندرا راجن کے درمیان دوریاں بڑھتی جارہی ہیں، قیاس لگایا جارہا ہے کہ چند امور کی وجہ سے یہ دوریاں بڑھی ہیں۔

چیف منسٹر کے سی آر کی وزراء کے ساتھ راج بھون میں منعقدہ یوم جمہوریہ تقریب میں عدم شرکت بھی ا سکی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ دوسرے واقعہ میں میڈارام جانے کیلئے گورنر کو ہیلی کاپٹر فراہم نہیں کیا گیا۔

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے حالیہ دورہ کے دوران بھی ایر پورٹ پر چیف منسٹر اور گورنر نے آپس میں ملاقات بھی نہیں کی۔

Back to top button