گھر کی کانگریس بمقابلہ سب کی کانگریس‘ یعنی جان ابھی باقی ہے

پریم کمار

”گھر “ کی کانگریس بمقابلہ ”سب کی کانگریس۔“ یہ جنگ کانگریس کے اندر چھڑچکی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر، سابق وزیر و سینئر وکیل کپل سبل نے آخری سانس تک ”گھر کی کانگریس“ سے لڑنے کی بات کہہ کر یہ جتادیا کہ لڑائی ٹھن چکی ہے۔
گاندھی خاندان کے لیے جوابی پلٹ وار اشوک گہلوت، پون کھیڑا، مانیکم ٹیگور جیسے قائدین نے کیا ہے۔ آگے کیا ہوگا، اس پر کانگریس کے خیرخواہوں اور مخالفین سب کی نظر ہے۔
کپل سبل جی 23کے اہم لیڈر ہیں جو ایسا احساس کرارہے ہیں کہ وہ ”گھر کی کانگریس“ سے باہر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس ”گھر کی کانگریس“ کو وہ ”سب کی کانگریس“ بنانا چاہتے ہیں، اس سے باہر انہوں نے شامیانہ کیوں لگارکھا ہے؟ سوال یہ بھی اہم ہے کہ کپل سبل کو کب پتا چلا کہ وہ ”سب کی کانگریس“ میں نہیں رہے جو ”گھر کی کانگریس“ بن چکی ہے۔؟
کپل سبل2014 تک رکن پارلیمنٹ بھی رہے اور یو پی اے حکومت کے وزیر بھی۔ کانگریس اقتدارسے باہر ہوئی تو کپل سبل بھی اقتدار کے ایوان سے باہر ہوکر پیدل ہوچکے تھے۔ کانگریس اس وقت تک سب کی رہی جب تک اس کی حکومت رہی ۔ حکومت سے باہر آتے ہی کپل سبل جیسے قائدین اپنی پیشہ ورزندگی میں مست ہوگئے۔ وہ کانگریس سے اور کانگریس ان سے دور ہوتی چلی گئی۔ فاصلہ اتنا بڑھا کہ کپل کی نظر میں کانگریس اب سب کی نہ ہو کر ”گھر کی کانگریس“ ہوگئی ہے۔ کپل سبل سوال اٹھارہے ہیں کہ راہول گاندھی نے کس حیثیت سے چرن جیت سنگھ کو چیف منسٹر کا چہرہ قرار دیا؟ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ راہول گاندھی تو صرف رکن پارلیمنٹ تھے پھر بھی اگر وہ سارے فیصلے لے رہے تھے تو اب انہیں دوبارہ کیوں پارٹی کی باگ ڈور سونپی جائے؟ بے شک یہ جاننا عام کانگریسوں کے لیے دلچسپ ہوگا کہ راہول گاندھی کیا کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی سے اختیار حاصل کرکے تنظیم کے فیصلے لے رہے تھے یا پھر وہ اپنی من مانی پنجاب کانگریس پر تھوپ رہے تھے!۔ کپل سے پہلے کسی نے راہول پر اس طرح سے سوال نہیں اٹھایا تھا ، یہ بھی سچائی ہے۔
راہول گاندھی اگر رکن پارلیمنٹ ہو کر کانگریس کے بڑے فیصلے لے رہے تھے تو کپل سبل جو رکن پارلیمنٹ بھی نہیں ہیں، کس طرح کی ”گھر کی کانگریس“ اور ”سب کی کانگریس“ جیسے اہم موضوعات پر فیصلہ لے رہے ہیں؟ یہ سوال خود اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اب تک جی 23‘قیادت کے خلاف اجلاس کرتا رہا ہے اور ہائی کمان نے ان کو برداشت کیا ہے۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس سے قبل کہ جی 23کوئی بڑا فیصلہ لے، کانگریس قیادت آر پار کی لڑائی کا ذہن بناچکی ہے۔ اس کے اشارے کانگریس قائدین کے بیانات سے ملے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کپل سبل کو کانگریس صدر کا انتخاب لڑنے کا چیلنج کیا ہے، مگر الیکشن لڑنے تک کپل سبل کانگریس میں برقرار رہ سکیں گے یا نہیں، یہ بات اہم ہے۔ جی 23 کے قائدین نے مسلسل جہاں مودی قیادت کی ستائش کی ہے، وہیں کانگریس قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ منیش تیواری جیسے قائدین نے پنجاب الیکشن سے قبل کتاب لکھ کر کانگریس کلچر پر حملہ کیا تو غلام نبی آزاد نے مسلسل بی جے پی کے تئیں نرم رویہ کا اظہار کیا۔ حال ہی میں ان کے بیٹے بھی بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کی عبوری صدر سونیاگاندھی نے پانچ ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں شکست کے بعد ان ریاستوں کے صدور سے استعفیٰ دینے کو کہا ہے۔ یہ احکام مقامی قیادت کو ذمہ دار ٹھہرانے اور ذمہ دار بنانے کا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کی ذمہ داری ریاستی صدور کو لینی ہوگی۔ ابھی ردعمل نہیں آیا ہے۔ مگر اب قیادت سختی دکھانے کو تیار نظر آرہی ہے۔ الیکشن میں شکست کے بعد آواز اٹھتی ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست کے بعد بی جے پی کے قد آور قائدین نے پارٹی چھوڑی اور ممتا بنرجی کا دامن دوبارہ تھاما۔ یکے بعد دیگرے بڑے قائدین بی جے پی چھوڑ چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں جانے لگ گئے۔ کانگریس چھوڑنے کا موقع فی الحال نہیںہے۔ اس کے لیے انتخابات کا موسم گزرچکا ہے۔ اب کانگریس سے نکالے جانے کا موسم آچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ گھر کی کانگریس سے باہر کردیے جانے کے بعد کپل سبل جیسے قائدین کیا سب کی کانگریس بنانے کی ہمت اور جذبہ دکھاسکیں گے؟
جی 23میں شامل سبھی بڑے قائدین کبھی نہ کبھی اہم عہدوں پر فائز رہے تھے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ کانگریس کے برے دن میں ان کا کردار کبھی ایسا نہیں نظر آیا کہ وہ کانگریس کے لیے کارآمد رہ گئے ہیں۔ کانگریس ان کے لیے فائدہ مند رہی، یہ بات جگ ظاہر ہے۔ کانگریس قیادت پر تنقید ان کا حق ہے ،لیکن مودی کی قیادت کی ستائش کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اپنی قیادت کو کمتر دکھانا ہے۔ اگر جی 23میں اہلیت ہے تو وہ کانگریس کی قیادت کرنے کے لیے کیوں نہیں آگے آتے؟
کانگریس کے اندر جاری صدارتی انتخابات کے عمل کا حصہ بن کر بھی وہ گاندھی خاندان کو فعالیت فراہم کرسکتے ہیں۔ پتا نہیں جی 23کے قائدین ایسا کیوں نہیں کرنا چاہتے ہیں؟
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ راہول گاندھی میں اتنی اخلاقیات تھی کہ عام انتخابات میں شکست کے بعد انہو ںنے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ایسی اخلاقیات کانگریس کے دوسرے بڑے قائدین کیوں نہیں دکھاسکے جو آج جی 23کا علم بلند کیے ہوئے ہیں؟
پانچ ریاستوں میں شکست کے بعد پہلی بار اتنا کھل کر کانگریس میں گھمسان نظر آیا ہے۔ پہلی بار ایسا لگا کہ کانگریس میں جان ابھی باقی ہے۔ جہاں ”گھر کی کانگریس“ ریاستی صدور سے استعفیٰ مانگتی نظر آرہی ہے، وہیں ”سب کی کانگریس“ بنانے کا دعویٰ کرنے والے قائدین موجودہ قیادت پر ہی سوال کھڑے کررہے ہیں۔ اس بار نتائج برآمد ہوں گے۔
تنظیم کے اندر اقتدار کی جدوجہد کا یہ باب اس بار کچھ نتائج لے کر آئے گا۔ یا تو جی 23کے سامنے قیادت گھٹنے ٹیکے گی یا پھر جی23 ہائی کمان کے سامنے خودسپردگی کردے گا۔ اسی طرح یا تو بغاوت کرنے والے کامیاب ہوں گے یا پھر بغاوت کرنے کی سزا بھگتیں گے؟ اس میں سے اگر کچھ بھی ہوتا ہے تو سمجھیے کہ کانگریس میں جان ابھی باقی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button