گھڑیاں انہیں خود اپنی بیماری کے بارے میں بتاتی ہیں(تصاویر)

گل کاکڑ نے اپنی نایاب گھڑیوں کا خزانہ کوئٹہ کے پولیس ہیڈ کوارٹرس میں جمع کررکھا ہے۔ گل کاکڑ کوئٹہ کے قبائلی پولیس ہیڈ کوارٹرس میں خود ایک پولیس افسر ہیں۔ گل کاکڑ کا کہنا ہے کہ انہوں نے گذشتہ 18 برسوں کے دوران یہ گھڑیاں اکٹھی کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دادا کی گھڑی ہو یا کوئی ٹیبل کلاک، وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں۔ وہ جب آدھے سے ایک گھنٹہ ان گھڑیوں کے درمیان گذارتے ہیں تو کوئی بیمار گھڑی خود بولنا شروع کردیتی ہے کہ اس میں یہ خرابی ہے۔

ایک تبصرہ

تبصرہ کریں

Back to top button
%d bloggers like this:

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.