ہائے اس ذودِ پشیماں کا پشیماں ہونا

ایم اے حفیظ کوڑنگلی

غالب کا یہ شعر
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفاسے توبہ
ہائے اس ذود پشیماں کا پشیماں ہونا
اس لحاظ سے بہتر ہے کہ کم سے کم معشوقہ نے اپنا جرم تسلیم کرلیا ہے اور توبہ بھی کی ہے۔ آج کے دور میں کون اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہے؟ غلطیوں کو ماننا بزدلی اور نااہلی سمجھی جاتی ہے۔
مانباپ نے اپنے لخت جگر کو لاڈ و پیار سے پالا‘ اعلیٰ تعلیم دی اور وہی نور نظر ایک رات کسی غیرمسلم کے ساتھ رفوچکر ہوجاتی ہے اور بجائے پشیمانی کے اپنے بالغ ہونے اور دستور کے بنیادی حق کی دہائی دیتی ہے اور مانباپ طوق بدنامی سے زمین میں دھنس جاتے ہیں۔
کبھی ایسا بھی ہوا ہوگا‘ آپ اپنی گاڑی پر بڑی احتیاط و محتاط انداز سے جارہے ہوں‘ پیچھے سے کوئی گاڑی تیزی سے دندناتی فراٹے بھرتی ہوئی دھکا دے کر گزرجاتی ہے اور ”اپنے مانباپ کی دُعاو¿ں“ کی وجہ موت سے تو بچ جاتے ہیں مگر زخمی ہوجاتے ہیں اور وہ گاڑی والا بہت دور تک حقارت بھری نگاہوں سے گھورتے ہوئے گزرجاتا ہے۔ اگر وہ اس طرح سے پہلے گھورتا تو یہ حادثہ ہوتا ہی کیوں؟
مگر ہمیں محکمہ موسمیات پر بہت رحم و ترس آتا ہے۔ وہ بے چارے ہر روز عوام کے سامنے پشیماں ہوتے رہتے ہیں، کیوں کہ ان کی پیش قیاسی بہت کم صحیح ثابت ہوتی ہے۔
اچانک محکمہ موسمیات کا انتہائی اہم و ہنگامی اعلان نشر ہونے لگا۔‘ خلیج بنگال میں ہوا کے دباو¿ کی وجہ ہوا کے جھونکے آج رات 5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلیں گے۔ آسمان99% بادلوں سے ڈھک جائے گا۔ قوی امید ہے کہ یہ طوفان طغیانی میں تبدیل ہوکر موسیٰ ندی کے آس پاس علاقوں کی تاریخ و جغرافیہ بدل دے گا۔ ماہی گیروں کو اس طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کام اپنے گھر سے بھی کرسکتے ہیں۔ پیار کے پنچھی ان آبی ذخائر سے دور رہیں ورنہ جوانی دیوانی بیگانی ہوجائے گی۔”زمین اللہ کی قبضے عبداللہ کے“ نعرے کے تحت جن لوگوں نے غیر مجاز تعمیر نالوں پر تالابوں میں‘ ندیوں اور نشیبی علاقوں میں کی ہے وہ ”انا للہ“ کے لیے تیار ہوجائیں۔ سطح آب میں اضافہ کی وجہ سے ندی نما سڑکوں پر آمدورفت کے لیے ناو¿، ٹائر وٹیوب یا ماہر تیراک کی خدمات حاصل کرلیں۔ گھر کے تمام واٹر کنٹینرس میں پانی کا ذخیرہ کریں۔ پانی کی سپلائی چند دن متاثر رہے گی۔ تمام مذہبی مقامات و عبادت گاہیں کھلی رہیں گی تاکہ عوام کو اپنے گناہوں کو معاف کروالےنے میں سہولت ہوسکے۔
نہ کوئی لاش ندی میں تیرتی ہوئی نظر آئے گی، نہ کوئی میت بناگوروکفن چھورڑدی جائے گی۔
پانی میں بہتے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے پورے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ مچھلی کا جال لیے پولیس فورس ندی کے دونوں طرف متعین کی جارہی ہے۔ کوئی شہری زندہ یا مردہ اسٹیٹ کی حدود سے باہر نہ جاسکے۔ شہر کے تمام بڑے قبرستانوں اور شمشانوں میں گورکن اور پنڈت اور ضروری ساز و سامان مہیا کیاگیا ہے۔ حکومت وقت رعایا کی زندگی کے ساتھ بھی اور زندگی کے بعد بھی ان کی پوری دیکھ بھال کرے گی۔ حاکم اعلیٰ© نے عوام سے ہمت صبر و استقامت سے اس صورت حال سے نمٹنے کی خواہش کی ہے۔ موت کا ایک دن معین ہے اور ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ انہوں نے رعایا سے ان کی سلامتی اور صحت کی دعا کی اپیل کی ہے۔ (اعلان ختم ہوا)۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر بجلی کی طرح شہر میں پھیل گئی۔ کہرام مچ گیا ‘ افراتفری کا عالم ہوگیا۔ مسجدوں میں آیت کریمہ اور مندروں سے بھجنوں کی آوازیں آنے لگیں۔ نافرمان اولاد اپنے مانباپ کو زبردستی منوانے لگی۔ جائیدادوں کا ہبہ ہونے لگا۔ صلوٰة قضائے عمری‘ نماز حاجت اور اذکار کی مجلسیں سجنے لگیں ‘ بیویاں اپنے شوہر سے چھپاکر جمع شدہ رقومات پوری دیانتداری سے اپنے اپنے شوہروں کے حوالے کرنے لگیں اور شوہر بھی اسی جذبہ خلوص و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فراخدلی سے اپنی تمام ازواج کی صحیح تعداد اور دوسری املاک کا حساب بھی دینے لگے۔
مولویوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکر کوچنگ سنٹر قائم کرلیے تاکہ ”سکرات سے قبر کے سوال جواب تک“ کے مراحل کو کامیابی سے پارکرنے کی ٹریننگ دی جاسکے۔ مضبوط درختوں پر موزوں مقام کے لیے ہجوم میں افراتفری پھیل گئی اور درخت سے گرکر زخمی ہونے کے واقعات پیش آنے لگے۔
اسی طرح اونچے پہاڑوں پر عوام کے ہجوم میں بھگدڑ سے کچھ لوگ زخمی ہوگئے۔ پتوں کی سرسراہٹ اور پردوں کے ارتعاش سے دل کی دھرکنیں تیز ہونے لگیں۔ چھتوں‘ درختوں اور پہاڑ کی چوٹیوں پر رات تو گزرگئی۔۔ صبح غیر متوقع خوشگوار بادل جیسے محکمہ موسمیات کا بائیکاٹ کررہے ہوں۔ نسیم سحر ہر گھر کے آنگن میں ٹہلنے لگی۔ لوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر حیرانی سے کبھی آسمان‘ کبھی زمین اور کبھی خود کو دیکھنے لگے۔
اتنے میں اچانک ایک اور اعلان نشر ہونے لگا۔“ حکومت کو افسوس ہے کہ ’غلطی سے تازہ رپورٹ کے بجائے دیڑھ سو سالہ پرانی رپورٹ نشر کردی گئی ہے۔ ایک عہدیدار جن کو اشیائے قدیمہ‘ نوادرات اور تاریخی دستاویزات جمع کرنے کا شوق ہے۔ اس رپورٹ کو اکٹھا کیا تھا جو غلطی سے کسی دوسرے عہدیدار نے نشر کردیا۔ تحقیقات جاری ہیں کہ اس میں کوئی باہری ملک کی سازش تو نہیں ہے۔ ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر مستقبل میں حقیقتاً ایسا ماحول پیدا ہوا تب بھی ہم ایسی رپورٹ جاری نہیں کریں گے جس سے عوام خوفزدہ اور دہشت زدہ ہوں“ ۔(اعلان ختم ہوا)۔۔
تاریخ شاہد ہے‘ بہت کم سیاست دان یا حکمراں ہیں جنہوں نے اپنے ظلم و ناانصافیوں کو تسلیم کیا ہو۔ بعض کا تو یہ شوق ہے اور بعض کا نصب العین۔۔۔
ایک چور رات میں ایک مالدار کے گھر میں گھسا‘ تجوری پر لکھا تھا۔ ”تجوری کھولنا ہے تو دائیں طرف کا لال بٹن دبائیں“ اس نے ایسا ہی کیا اچانک سائرن بجنے لگا‘ وہ پکڑاگیا۔
جج نے پوچھا۔ کیا تم اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہو“؟
چور نے فلسفیانہ انداز میں جواب دیا۔ ”سر! شرمندہ تو ان لیڈروں کو ہونا چاہیے جن کو میں نے ووٹ دیا تھا۔“
لیکن سر! یہ دنیا بڑی دھوکے بازہے۔ لکھتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے۔“
دانشور کہتے ہیں دنیا کا سب سے بہترین جملہ ”معاف کیجئے ایسا پھر نہیں ہوگا ”تمام تنازعات کا واحد حل ہے۔، لیکن شاطر چالباز لوگ اپنی غرض و فائدے کے لیے عداوت کو طول دیتے ہیں۔
شرف الدین نے پتنگ بازی کرتے ہوئے ہمسایہ فخر الدین کے گھر کی چھت پر کود کر کئی پتنگ لوٹی، لیکن ایک چالاک وکیل نے فخر الدین کو ورغلاکر پولیس میں شکایت درج کروادی۔ کیس سالوں تک نیچے سے اوپر عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے جب فیصلہ آیا تب تک ان دونوں کا حال کٹی پتنگ سے بھی بدتر ہوچکا تھا۔ شرف الدین اپنا مکان بیچ کر کرایہ کے مکان میں تھا۔ فخر الدین کا گھر چھت سمیت گرچکا تھا۔۔۔۔۔لیکن وکیل نے اپنا کرایہ کا مکان چھوڑکر شاندار حویلی کھڑی کرلی تھی۔ فرق صرف ایک لفظ ”پشیمانی“ کا۔۔۔ جس سے انسان اپنی ’انا‘ کی خاطر بچنا چاہتا ہے۔۔۔۔
گناہ کرنا انسانی عمل ہے۔ اس پر غرور ابلیسی عمل ہے اور اس پر اصرار اور ہٹ دھرمی بے حیائی ہے۔
مردم شماری کے سلسلہ میں کچھ ملازمین ایک خاتون کے گھر پہنچے۔ تفصیلات لکھتے ہوئے ایک ملازم نے پوچھا۔۔” محترمہ! میں سمجھ نہیں پارہا ہوں کہ آپ کے شوہر کی وفات 6 سال پہلے ہوئی اور آپ کے دو بچے 4 سال اور 2 سال کے ہیں؟، خاتون غصہ اور حقارت بھرے انداز میں بھڑک اٹھیں اور کہا ”ارے بے وقوف! میرا شوہر مراہے میں نہیں!“
کچھ لوگ مہارت اور ہنر مندی سے معاملے کو اس طرح توڑ مروڑ دیتے ہیں کہ سوال کا موضوع بھی بدل جاتا ہے۔
”ایک ریسٹورنٹ میں گاہک نے شکایت کی کہ اس کےSOUP میں مکھی ہے۔ منیجر فوراً قریب آیا اور ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
”جناب! تھوڑی سی دریادرلی کا مظاہرہ کیجئے۔ اتنی چھوٹی سی مکھی نے بھلا کتنا SOUP پیا ہوگا!
حیرت ہے خطا کے بعد چہرے پر شرمندگی کے آثار کیوں رونما نہیں ہوتے۔ ہم” ابن آدم“ ہیں ”ابن ابلیس“ نہیں۔
ایک زمانہ تھا، کسی کو شرمسار دیکھ کر شکوہ کرنے والے کا دل بے چین و بے قرار ہوجاتا تھا اور کبھی فرط غم سے وہ اس سے معافی مانگ لیتا تھا۔
کتنا نادم ہوں کسی شخص سے شکوہ کرکے
مجھ سے دیکھا نہ گیا ان کا پشیماں ہونا

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button