ہردئے ناتھ منگیشکر کی برطرفی کے دعوے پر سنجے راؤ ت کا اعتراض

 راؤت نے جمعرات کو کہا کہ وہ پوری زندگی یہ نغمہ آکاش وانی پر ہی سنتے رہے جس نے اس نغمہ کو مقبول بنایا۔ یہ روایت ہے کہ دستوری عہدہ پر فائز جھوٹ نہیں بولتا۔ مگر میں وزیراعظم کو سلام کرتا ہوں۔“ شیوسینا لیڈر نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہردئے ناتھ منگیشکر کو آل انڈیا ریڈیو سے برطرف کیے جانے کا ریکارڈ نہیں ہے۔

ممبئی: شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے وزیراعظم نریندر مودی کے اس دعوے پر اعتراض کیا کہ موسیقار ہردئے ناتھ منگیشکر کو ساورکر کی نظم پیش کرنے پر آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) سے برطرف کردیا گیا تھا۔

 رپورٹر کے اس سوال پر کہ کیا وزیراعظم نے گو ا کے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں یہ حوالہ دیا ہے،راؤت نے کہا کہ یہ ممکن ہے کیوں کہ منگیشکر خاندان کی جڑیں ساحلی ریاست میں ہیں جہاں کی 40رکنی اسمبلی کیلئے 14فروری کو انتخابات منعقد شدنی ہیں۔

راؤت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ ممکن ہے۔ وہ عظیم وزیراعظم ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نہ ان سے پہلے کوئی وزیراعظم ہوا ہے اور نہ بعد میں ہوگا۔ میں ان کا (مودی) بے حد احترام کرتا ہوں۔ وہ بڑے لیڈر ہیں۔ میں ان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے، لوگ کچھ بھی کہہ دیتے ہیں، ہمیں سمجھنا چاہیے۔

“ راؤت نے دہلی میں میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ منگل کو راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے مودی نے کانگریس کی ماضی کی حکومتوں میں اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کے کئی واقعات کا ذکر کیا اور لتا منگیشکر کے موسیقار بھائی ہردئے ناتھ منگیشکر کو ساورکر کی نظم پڑھنے پر اے آئی آر سے برطرف کیے جانے کا حوالہ دیا۔

 راؤت نے جمعرات کو کہا کہ وہ پوری زندگی یہ نغمہ آکاش وانی پر ہی سنتے رہے جس نے اس نغمہ کو مقبول بنایا۔ یہ روایت ہے کہ دستوری عہدہ پر فائز جھوٹ نہیں بولتا۔ مگر میں وزیراعظم کو سلام کرتا ہوں۔“ شیوسینا لیڈر نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہردئے ناتھ منگیشکر کو آل انڈیا ریڈیو سے برطرف کیے جانے کا ریکارڈ نہیں ہے۔

اگر کسی موسیقار کو ایک مخصوص نغمہ کے لیے ملازمت سے برطرف کیا جاتا تو وہ نغمہ اتنے برسوں تک آکاش وانی پر دوبارہ پیش نہیں کیا جاتا۔ وہ اسے کیوں پیش کرتے؟“ راؤت نے کہا کہ میں اسے آکاش وانی اور دوردرشن پر آج بھی سنتا ہوں۔ ہم سب سنتے ہیں۔ یہ نغمہ ہمارے دلوں میں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ وہ ساورکر کے بھگت ہیں اور یہ جذبہ کوئی ڈرامہ نہیں ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے اس دعوے پر بھی مودی کو نشانہ بنایا کہ جب لوگ لاک ڈاؤن اور کووڈ19 قواعد پر عمل کررہے تھے تو کانگریس ممبئی کے ریلوے اسٹیشنوں پر ٹھہر کر معصوم مزدوروں کو ان کی آبائی ریاستوں کو فرار ہونے کے لیے ڈرارہی تھی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button