ہرشا کے خاندان کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے حکومت کرناٹک کا اعلان

چیف منسٹر بسواراج بومئی نے انہیں فون پر اپنے فیصلہ کے بارے میں بتایا۔ ایشوراپا نے کہا کہ وہ اور سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا 6 مارچ کو ہرشا کے گھر جائیں گے اور معاوضہ کی رقم اس کے خاندان کے حوالہ کریں گے۔

شیواموگہ (کرناٹک): حکومت کر ناٹک نے بجرنگ دل کارکن ہرشا کے خاندان کے لئے 25 لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ ہرشا کو 20 فروری کو قتل کیا گیا تھا۔ وزیر دیہی ترقی و پنچایت راج کے ایس ایشوراپا نے آج کہا کہ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے انہیں فون پر اپنے فیصلہ کے بارے میں بتایا۔ ایشوراپا نے کہا کہ وہ اور سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا 6 مارچ کو ہرشا کے گھر جائیں گے اور معاوضہ کی رقم اس کے خاندان کے حوالہ کریں گے۔

 آن لائن مہم کے ذریعہ ہرشا کی ماں کے اکاؤنٹ میں زائداز 60لاکھ روپے جمع ہوئے ہیں۔ شیواموگہ میں تشدد کے دوران ہندو کارکن ہرشا کو قتل کیا گیا تھا۔ حکومت نے کہا ہے کہ یہ قتل سے کہیں زیادہ تھا اور اشرار اس قتل کے ساتھ ایک پیام دینا چاہتے تھے۔ چیف منسٹر بومئی نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیاں جڑ تک پہنچیں گی اور قتل کے پس پردہ ”نادیدہ“ ہاتھوں کو تلاش کریں گی۔ پولیس نے اب تک 10  افراد کو گرفتار کیا ہے۔

 شیواموگہ میں 7 دن کا کرفیو لگایا گیا تھا اور 28 فروری کو وہاں معمول کے حالات بحال ہوئے ہیں۔ کرناٹک میں ہندو کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے اور ہرشا کے ایک رکن خاندان کو اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کے لئے ٹکٹ دینے کا حکمراں بی جے پی سے مطالبہ کیا ہے۔ سری رام سینا کے بانی پرمود متالک نے ایک طاقتور بیان جاری کیا ہے کہ بی جے پی کو ہندوتوا کارکنوں کو نہیں گھیرنا چاہئے جن کی تائید سے وہ برسراقتدار آئی ہے۔

 یہ مہم دن بہ دن طاقتور ہوتی جارہی ہے اور حکمراں بی جے پی ان واقعات پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ہندو کارکنوں نے سیاسی مفادات کی تکمیل اور زمینی کارکنوں کے لئے کچھ نہ کرنے پر بی جے پی کو نشانہ ئ تنقید بنایا ہے۔ اس حلقہ کی نمائندگی فی الحال وزیر دیہی ترقی و پنچایت راج کے ایس ایشوراپا کرتے ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button