ہریانہ کے چرچ میں یسوع مسیح کے مجسمہ کو توڑ دیا گیا

ہریانہ کے وزیر داخلہ انیل وِج نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ مجرموں کی شناخت کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مجرموں کو پکڑنے کی ذمہ داری تین ٹیموں کو تفویض کی ہے۔

انبالہ (ہریانہ) : ہریانہ کے انبالہ میں دوپہر ایک چرچ میں یسوع مسیح کے مجسمہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن ابھی تک مجرموں کو شناخت نہیں کرسکی ہے۔

ہریانہ کے وزیر داخلہ انیل وِج نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ مجرموں کی شناخت کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مجرموں کو پکڑنے کی ذمہ داری تین ٹیموں کو تفویض کی ہے۔

ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلیا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دو افراد ملوث ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر اس میں ملوث افراد کو جلد ہی گرفتار کرلیں گے۔

صدر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤز آفیسر نریش نے بتایا کہ 12:30 بجے دن دو افراد احاطہ کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے اور تقریباً 1:40 بجے یسوع مسیح کے مجسمہ کی توڑپھور کی۔

یہ بھی پڑھیں

ان کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے پولیس ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔ ایک شکایت درج کی گئی ہے اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی مقامات پر چرچوں پر حملے کیے گئے ہیں اور کرسمس کے جشن میں رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔ حکمراں بی جے پی کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جانے کے بعد کہ چرچس، لوگوں کو زبردستی عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کررہے ہیں، کرناٹک میں حال ہی میں ایک انسدادِ تبدیلی ئ مذہب بل منظور کیا گیا ہے۔

بائیں بازو کے ایک ہجوم نے جمعرات کے روز ہریانہ کے ایک خانگی اسکول میں کرسمس کارنیوال میں گڑبڑ کی تھی۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button