”ہمیں اپنے ہی وطن سے دھوکہ ملا۔ بنیادی حق سے محروم کردیا گیا“: مسلم طالبات

طالبات نے یہ استدلال کرتے ہوئے کہ حجاب کے مسئلہ کو جسے مقامی سطح پر حل کیا جانا چاہئے تھا‘ اب سیاسی اور فرقہ وارانہ رخ اختیار کرگیا ہے مگر اس رکاوٹ کے باوجود وہ ترک تعلیم نہیں کریں گی۔

اڈپی : کرناٹک کے اڈوپی کی پانچ طالبات نے جن کی کلاس رومس میں حجاب کی اجازت دینے کے لئے دائر کردہ درخواست کو آج ہائی کورٹ کی جانب سے مسترد کردیا گیا‘ ذرائع ابلاغ سے کہا کہ انہیں ’بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا‘ اور وہ محسوس کرتی ہیں کہ انہیں ’اپنے ہی وطن سے دھوکہ ملا‘۔ انہوں نے یہ استدلال کرتے ہوئے کہ حجاب کے مسئلہ کو جسے مقامی سطح پر حل کیا جانا چاہئے تھا‘ اب سیاسی اور فرقہ وارانہ رخ اختیار کرگیا ہے مگر اس رکاوٹ کے باوجود وہ ترک تعلیم نہیں کریں گی۔

گزشتہ برس دسمبر میں حجاب کے استعمال پر زبردست تناؤ کے ماحول میں طالبات یہ استدلال کرتے ہوئے عدالت سے رجوع ہوئی تھیں کہ اسلام میں حجاب کا استعمال لازم ہے اور ان کے اس حق کو دستور کا تحفظ حاصل ہے اور ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو تعلیمی اداروں میں اس کے استعمال پر امتناع عائد کرتا ہے۔

 انہوں نے آج دوپہر پریس کانفرنس میں یہ اصرار کرتے ہوئے کہ خواتین کے لئے حجاب ان کے مذہب کا لازمی جز ہے اور اس کا ذکر قرآن مجید میں ہے‘ کہا ”ہم حجاب چاہتی ہیں‘ ہم حجاب کے بغیر کالج نہیں جائیں گی۔“ انہوں نے ہائی کورٹ کے احکام کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ”قرآن مجید میں یہ ذکر ہے کہ ایک لڑکی کو اپنے بال اور سینہ کو چھپانا چاہئے۔

“ ایک طالبہ جس نے اپنی شناخت عالیہ ظاہر کی کہا ”اگر قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہوتا تو ہم اس کا استعمال نہیں کرتیں۔ اگر قرآن مجید میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا تو اس کے لئے ہم جدوجہد نہیں کرتیں۔“

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button