ہندوستان میں نہ تو ملازمت ہے اور نہ مکان: افغانی شہری منجیت سنگھ

منجیت سنگھ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے یہ پیشکش کو مستردکردیا ہے اگرچیکہ ان کی لڑکی اپنے نئے شوہر کے ہمراہ گذشتہ سال وہیں منتقل ہوئی ہے۔ اس نے سوال کیا کہ میں ہندوستان میں کیا کروں گا؟۔

کابل: افغانستان کے کابل میں آخری سکھ گردوارہ ایک بڑے ہال میں ہے جہاں ماضی میں لوگ عبادت کیلئے جمع ہوا کرتے تھے لیکن اس وقت وہاں صرف چند ہی لوگ رہ گئے ہیں۔

گرنام سنگھ نے بتایاکہ افغانستان ہمارا ملک، ہمارا مادر وطن ہے لیکن ہم محض مایوسی کی بناء پر اس سے رخصت ہورہے ہیں۔

1970ء میں افغانستان میں سکھوں کی آبادی کی تعداد ایک لاکھ تھی لیکن کئی دہے طویل جنگ‘غربت اور عدم رواداری نے ان میں سے بیشتر کو جلاوطنی پر مجبورکردیا۔

روس کا قبضہ‘ بعدازاں طالبان حکومت کے بعد اور امریکہ کی جانب سے خونریز فوجی مداخلت کے بعد سال گذشتہ ان کی تعداد صرف 240 تک گھٹ گئی۔ سکھ طبقہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار میں یہ بات بتائی۔

گرنام سنگھ کے مطابق آج ان کی تعداد صرف 140ہے اور ان میں سے بیشتر مشرقی شہر جلال آباد اور کابل میں ہی مقیم ہیں۔ دیگر سکھ کارٹے پروان گردوارہ میں جاتے ہیں تاکہ وہاں عبادت کرسکیں۔ ایک جانب خواتین اور دوسری طرف مرد رہتے ہیں جن کی تعداد تقریباً 15ہوتی ہے۔

دبیز سرخ کمبل اوڑھے‘ فرش پر ننگے پیر بیٹھے ہوئے سکھ اسٹوز(چولہے) کے اطراف بیٹھ کر حرارت حاصل کرتے ہیں اور سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کی سماعت کرتے ہیں۔

ماہ نومبر میں وہاں اس کی تین کاپیاں تھیں لیکن دو کو محفوظ رکھنے کیلئے نئی دہلی بھیج دیاگیا ہے۔

افغان سکھوں میں غربت شدت سے ہے اور داعش کی افغان شاخ جو مسلح گروپ ہے ان کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ بیشتر سکھ جو افغانستان سے فرار ہوئے ہیں وہ ہندوستان پہنچ گئے ہیں جہاں 90 فیصد مذہب کے 25ملین عالمی پیرو سکونت پذیر ہیں۔ ان میں سے بیشتر شمال مغربی پنجاب میں رہتے ہیں۔

طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد ہندوستان نے جلاوطن سکھوں کو ترجیحی ویزوں کاپیشکش کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ طویل مدتی سکونت کیلئے درخواست پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ اس بات کا تاحال کوئی امکان نہیں کہ شہریت زیرغور ہے۔

40 سالہ فارماسسٹ منجیت سنگھ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے یہ پیشکش کو مستردکردیا ہے اگرچیکہ ان کی لڑکی اپنے نئے شوہر کے ہمراہ گذشتہ سال وہیں منتقل ہوئی ہے۔ اس نے سوال کیا کہ میں ہندوستان میں کیا کروں گا؟۔ ہندوستان میں نہ تو ملازمت ہے اور نہ مکان۔

دیگر خاندانوں کے وہاں سے رخصت ہونے کے امکانات بالخصوص تکلیف دہ ہیں کیونکہ اس کا مطلب ان کے روحانی گھر کو ترک کرنا ہے۔

60 سالہ کمیونٹی بزرگ منموہن سنگھ نے بتایاکہ 60 سال قبل گردوارہ تعمیر ہوا تھا اور اس سارے علاقہ میں سکھ مقیم تھے جو کچھ خوشی یا غم ہوتا ہم آپس میں بانٹ لیتے۔ باہر سے گردوارہ سڑک کی دیگر عمارتوں سے الگ نہیں دکھائی دیتا ہے لیکن یہاں سیکیوریٹی بہت زیادہ ہے اور جامہ تلاشی کے علاوہ آئی ڈی کی جانچ ہوتی ہے اور دو مضبوط دروازے بھی موجود ہیں۔

اکتوبر کے اوائل میں نامعلوم بندوق بردار اندرگھس پڑے اور اس مقدس مقام پر توڑ پھوڑکی۔ اس واقعہ کا افغانستان کی سکھ کمیونٹی پر انتہائی برا ردعمل ہوا۔

مارچ 2020ء میں داعش کے ارکان نے گردوارہ ہررائے صاحب شوربازار پر حملہ کیا جو کابل کی سکھ کمیونٹی کا سابقہ مقام ہے۔ اس حملہ میں 25افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملہ کے بعد سے گردوارہ اور قریب میں واقع دھرم شالہ گردوارہ جو دارالحکومت میں سکھوں کی قدیم ترین عبادت گاہ ہے اور500 سال قدیم بھی ہے اسے سنسان چھوڑدیاگیا۔

حملہ کے دوران بم کا ٹکڑا پرمجیت کور کی آنکھ پر لگا اور اس کی بہن بھی اس حملہ میں ہلاک ہوگئی۔ بعد کے ہفتوں میں پرمجیت کور نے اپنا بوریا بسترباندھا اور نئی دہلی روانہ ہوگئیں۔

اس نے بتایاکہ نئی دہلی میں کام بھی نہیں تھا اور خرچ بھی بہت زیادہ تھا لہذا وہ واپس لوٹ گئے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button