ہنومان جینتی جلوس کے دوران میدک کی جامع مسجد پر سنگباری

دائیں بازو کے چند شرپسند عناصر نے میدک کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ میدک کی جامع مسجد پر ہنومان جینتی جلوس کے دوران پتھراؤ کرتے ہوئے مسجد کی کھڑکیوں کے شیشوں کو نقصان پہونچایا گیا۔

میدک: دائیں بازو کے چند شرپسند عناصر نے میدک کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ میدک کی جامع مسجد پر ہنومان جینتی جلوس کے دوران پتھراؤ کرتے ہوئے مسجد کی کھڑکیوں کے شیشوں کو نقصان پہونچایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹاون میں کل ہنومان جینتی کا جلوس نکالا گیا اور جلوس جیسے ہی جامع مسجد کے روبرو پہونچا تونامعلوم شرپسندوں نے مسجد پر پتھراؤکیاجس کی وجہ سے کھڑکیوں کے شیشوں کو نقصان پہنچا۔

جمعہ کی نماز کے بعد مصلیانِ سلام پڑھ رہے تھے تب یہ واقعہ پیش آیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی مسلمان وہاں پہونچ گئے اور احتجاج کرتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کر نے، ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔

ڈی ایس پی پی سائیدولو،ٹاؤن سرکل انسپکٹر ڈی مدھو نے پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ مسجد پہونچ کر نشان زدہ شیشوں کا معائنہ کیا۔اور مسلمانوں سے شکایت درج کرانے پر زور دیا۔جس پر مسلمانوں نے فورَا درخواست پیش کی۔

اس واقعہ کی اطلاع بہت جلد اعلیٰ عہدیداروں کے پاس پہونچ گئی اور پولیس عملہ پوری طرح چوکس ہوگیا۔اس واقعہ میں نمائند منصف حافظ محمد فصیح الدین نے وزیر داخلہ محمد محمود علی سے ذریعہ فون بات کی تو انہوں نے تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں ضلع ایس پی میدک سے بات کریں گے اور ضرور اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کاوائی کی جائیگی۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ گزشتہ برسوں میں جلوسوں کے دوران اولڈ بس اسٹانڈ کے محلہ پلیڈی میں واقع مسجد ِ قاضیان کی دیوار پر اوم تحریر کیا گیا تھا جس کے خاطیوں کی نشاندہی اور ان کی گرفتاری کا معاملہ ابھی تک زیرِ التواء ہے۔

علاوہ ازیں ٹاؤن کے محلہ فتح نگر چمن،اور راج پلی دیہات کی درگاہوں پر موجود چادروں کو جلا دیا گیا تھا اور ان واقعات میں ملوث افراد ہنومان جلوس کے پیشِ نظر مقامی مسلمانوں نے ہر ممکن تعاون کیا۔حتی کے جلوس کو لیکر نمازِ جمعہ کے اوقات میں تبدیلی بھی کی گئی۔

پولیس کا بھاری بندوبست رہنے کے باوجود بھی مسجد پر پتھراؤ کیا جانا یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ پر امن فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔نمازِ مغرب کے بعد ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مقامی مسلمانوں سے ڈی ایس پی اور سرکل انسپکٹر نے ملاقات کرتے ہوئے وفد کو اس بات کا تیقن دیا کہ وہ اس مسئلہ پر ضرور کاروائی کریں گے۔ واقعہ کے 24 گھنٹے بیت جانے کے بعد بھی کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

تبصرہ کریں

Back to top button