ہوئے پریشاں ہم، مہمان بن کر

حیدرآبادی مہمان نوازی کے کیا کہنے کہ لوگ انتظار میں رہا کرتے تھے کہ کوئی مہمان آئے تو ہم اس کے ساتھ دو لقمے کھائیں گے ا

حمید عادل

حیدرآبادی مہمان نوازی کے کیا کہنے کہ لوگ انتظار میں رہا کرتے تھے کہ کوئی مہمان آئے تو ہم اس کے ساتھ دو لقمے کھائیں گے اور آج ہماری تنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مہمان آجائے تو ہم سوچتے ہیںکہ یہ جائے تو ہم کھائیں گے۔ایک دور تھا کہ مہمان کو خدا کی رحمت سمجھا جاتا تھا ، لیکن آج وہ مہمان رہے اور نہ وہ میزبان … معروف شاعر آصف ثاقب کہتے ہیں:
سمیٹ لے گئے سب رحمتیں کہاں مہمان
مکان کاٹتا پھرتا ہے میزبانوں کو
ایک دور تھا جب مہمان اور میزبان آپس میں ملتے تو ان کے دل بھی ملا کرتے تھے اور آج یہ عالم ہے کہ علیک سلیک اور رسمی گفتگو کے بعد میزبان، مہمان سے لا تعلق سا ہوجاتا ہے ،وہ اپنی جیب سے سل فون نکالتا ہے اورپھر اسی میں قید ہوکر رہ جاتا ہے۔ پھر خربوزے کو دیکھ کر خوبوزہ رنگ پکڑتا ہے ،یعنی مہمان کے اندر بھی شوق سل فون جوش مارتا ہے اور وہ بھی سل فون نکال کر انٹر نیٹ کے سمندر میں چھلانگ ماردیتا ہے ، دونوں پاس پاس ہوکر بھی ایک دوسرے سے دور بہت دور ہو جاتے ہیں۔ بلآخرمہمان وداعی کلمات ادا کرتے ہوئے میزبان سے کہتا ہے: اچھا دوست چلتا ہوں … میزبان سل فون کے اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر کہتا ہے :کبھی آؤ فرصت میںیار ، ڈھیر ساری باتیں کریں گے … اورمہمان دل ہی دل میں کڑھتا ہے کہ مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے کیا ؟
بن بلائے مہمان ،جہاںمیزبان کے لیے وبال جان بن جایا کرتے ہیں، وہیںکچھ میزبان، مہمان کے لیے امتحان بن جایا کرتے ہیں،جو خلوص کے نام پرمہمان کی مرضی اور پسند نا پسند کی پرواہ کیے بغیر اس کی پلیٹ میں ڈھیر ساری ڈشس انڈیل دیتے ہیں ، یہ رزق یا تو ضائع ہوجاتا ہے یا پھر بیچارہ مہمان مروتاً کھانے یا پینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ہم چائے کے باقاعدہ عادی نہیں ہیں…آدھی پیالی ’’چائے‘‘ ہمارے لیے ’’کافی‘‘ ہوجاتی ہے اور وہ بھی دن کے وقت … ہم سرشام چائے کو منہ تو کجاہاتھ تک نہیں لگاتے کیونکہ شام کی چائے ہمیںبے خوابی میں مبتلا کر دیتی ہے۔کچھ میزبان ہمارے انکار پر چپ ہوجاتے ہیں تو کچھ ہماری کسی دلیل کوخاطر میں لائے بغیر چائے ہمارے اندر انڈیلنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
شام کا وقت تھا،ہم چمن بیگ کے مہمان تھے ،تفصیلی گفتگو کے بعدہم نے اجازت چاہی تو چمن کہنے لگے:’’ چائے پی کر جاؤ…‘‘
ہم نے کہا :’’ نہیںیار! ہم پانچ بجے کے بعد چائے کو ’’ بائے‘‘ کہہ دیتے ہیں! ‘‘
’’کیوںبھلا؟‘‘
’’ہمیں نیند نہیں آتی…‘‘
’’ارے چھوڑو یہ ڈرامے…تم کو ہمارے گھر کی چائے پینی ہی ہوگی…‘‘
ہم نے چائے سے انکارکیا تو کہنے لگے:’’ چلو ڈکاکشن پیو۔ ‘‘ہم نے دوبارہ انکار کیا توچہک اٹھے: ’’فل کپ نہ سہی، ہاف کپ ہی سہی… دیکھو!اتنی تو تم کو پینی ہی ہوگی ،ورنہ میں برا مان جاوں گا…‘‘ چمن بیگ کی دھمکی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم نصف کپ ڈکاکشن پینے پرآمادہ ہوگئے۔ جب نصف کپ چائے آئی تو ہم پر کپکپی طاری ہوگئی … کیونکہ چائے کے کپ کو دیکھ کر ہمیں ورلڈ کپ یاد آگیا ،جسے کپل دیو کی سرپرستی میں ہندوستان نے پہلی بار جیتا تھا۔چائے کا کپ اس قدر تندرست و تواناتھا کہ نصف کپ چائے دو روایتی پیالیوں کے مساوی معلوم ہورہی تھی …جسے ہم نے بادل نخواستہ اپنے حلق کے نیچے انڈیلا اور پھر ہماری ساری رات بے خوابی کی نذر ہوکر رہ گئی …
گیارہ بجے کھانا اور دو بجے سونا ہماری صحت کے لیے’’ ہانی کارک‘‘ثابت ہوتا رہا ہے ، چنانچہ اول توہم دعوتوں میں بہت کم شرکت کرتے ہیں اور جس دعوت میں جاناناگزیر ہو،گھر سے کچھ کھا کر جاتے ہیں کہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آوے…
ہمارے ایک شناسائی کے غیر معمولی خلوص سے متاثر ہوکر ہم نے ان کی ایک تقریب میں شرکت کی اور حسب استطاعت چند ایک ڈشوں کو کھانے کے نام پرہم نے چکھا اور چپ ہوگئے۔ دریں اثنا میزبان ہمارے قریب آئے اور پلک جھپکتے ہماری پلیٹ میں ڈھیر سارا چکن اور بریانی انڈیل دی۔ ہم ان سے کہتے رہ گئے کہ چکن ہمیں پسند نہیں اور نہ ہی مزیدکوئی گنجائش ہے،لیکن انہوں نے ہماری ایک نہ سنی اورہماری پیٹھ ٹھونک کر کہا: چلیے کھائیے،کوئی بہانہ نہیں چلے گا …
جب حضرت میزبان ہمارے پاس سے جا چکے تو ہمارے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک مہمان نے ہم سے استفسار کیا: ’’آپ کی نظر میں میزبان کیسے آدمی ہیں؟ ‘‘
ہم نے پلیٹ میں پڑی ہوئی ڈشس کونہارتے ہوئے کہا: ’’خلوص کا پیکر ہیں وہ تو۔‘‘
ہمارا جواب سن کر وہ مسکرا دیے اور کہا:’’جی ہاں ! اتنے پرخلوص ہیں کہ مہمان کا کم کھانا وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں اور نوبت لڑائی جھگڑے تک جا پہنچتی ہے۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟‘‘ہم نے گھبرا کر سوال داغا۔
’’سچ کہہ رہا ہوں ، میں نے موصوف کی کئی ایک دعوتیں اٹنڈ کی ہیں، چند دن قبل کا واقعہ ہے، ان کے بھتیجے کی شادی تھی، جس طرح آج میزبان نے آپ کی پلیٹ میں مختلف ڈشیںانڈیلی ہیں ،ٹھیک اسی طرح انہوں نے ایک مہمان کی پلیٹ میں بھی مختلف ڈشس انڈیل دی تھیں … وہ بیچارہ مزید کچھ کھانے کے موقف میں نہ تھا، اس لیے کھانا یوں ہی پلیٹ میں چھوڑ کر جانے لگا تو میزبان نے اسے دبوچ لیا!
’’پھر‘‘ ہم نے بے ساختہ سوال کیا۔
’’پھر کیا، دونوں میں پہلے تو گفتگو ہوئی، پھر بحث و تکرارہوئی اور پھر یہی بحث و تکرار لڑائی جھگڑے تک جا پہنچی۔‘‘
’’لیکن کیوں ؟‘‘ ہم نے پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ سوال داغا۔
’’ارے بھئی !مہمان کا کم کھانا ،یہ صاحب اپنی توہین سمجھتے ہیں۔‘‘
’’عجیب سر پھرے ہیں ‘‘ ہم تھوک نگلتے ہوئے بڑبڑائے۔
’’جی نہیں .. .یہ اُن کا خلوص ہے اور اب آپ کی بھلائی اسی میں ہے کہ آپ اپنی پلیٹ میںموجودان کا سارا خلوص چپ چاپ چٹ کر جائیں۔‘‘
ہمارے پہلو میں بیٹھے ہوئے صاحب نے ہمیں مفت کے مشورے سے نوازا۔
دوستو!ایسے نازک موقعوں پر ہم مونگیری لال بن جاتے ہیں…ہم نے اپنی دائیں آنکھ پھڑپھڑائی اور تصوارتی دنیا میں کھوگئے… ہم نے دیکھا کہ ہماری کم خوراکی کو گستاخی تصور کرتے ہوئے پہلے تو میزبان صاحب سے ہماری گفتگو ہوئی، پھر بحث ہوئی اورپھر نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی جس کے نتیجے میں ہم جگہ جگہ سے پھٹ گئے …اس لرزہ خیزتصور کے ساتھ ہی ہم نے دل پر پتھر اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کھانا شروع کردیا اور سارا کھانا ختم کرکے ہی دم لیا…لیکن ہماری حالت غیر ہوگئی…ہم اس موقف میں ہرگزنہیں تھے کہ بس یا آٹو کا سفر کرسکیں ، لہٰذا ٹیکسی بک کروائی ، ہم نے پہلے ٹیکسی میں اپنے پیٹ کو بڑے سلیقے سے رکھا اور پھر خود کوٹیکسی میںڈھکیلا … ٹیکسی کے اندر ہمیں لمحے بھر کے لیے قرار نصیب نہ ہوا…پیٹ کو اور خود کو ایڈجسٹ کرتے کرتے ہمارا گھر آگیا…گھر پہنچے تو پھول بانو نے ہمیں دیکھتے ہی سوال داغا:
’’ہائے اللہ !یہ آپ کس کا پیٹ اٹھا لائے ؟‘‘
’’ کیا بکواس ہے ،یہ ہمارا اپنا پیٹ ہے۔‘‘ ہم نے مسہری پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا۔
’’ لیکن دعوت میں جانے سے پہلے تو ایسا نہ تھا …‘‘ پھول بانو نے ہماری توند کا بغور جائزہ لیتے ہوئے رائے قائم کی۔
’’ بیگم !جس دعوت سے ہوکر ہم آئے ہیں، خدا ایسی دعوت کسی دشمن کو بھی نصیب نہ کرے …‘‘
’’ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟‘‘
’’ارے بڑا سنکی میزبان تھا ،سنا ہے کہ اگر کوئی مہمان کم کھائے تو وہ اُسے اپنی توہین سمجھ بیٹھتا ہے اور پھربیچارے مہمان کو کھانے کے ساتھ ساتھ اس کے گھونسے بھی کھانے پڑتے ہیں …!‘‘
’’ خدا غارت کرے اُس مردود کو…مہمان کے پیٹ سے کھیلنے والے اس ظالم کا پیٹ پھٹ جائے ! ‘‘ پھول بانو نے دونوں ہاتھ اٹھا کرکوسا۔
’’بیگم !فی الحال ہمارے پیٹ کے پھٹنے کے چانسس زیادہ نظر آرہے ہیں … اگر کبھی ہماری کوئی بات آپ کو ناگوار لگی ہو تو ہمیں معاف کردیں…‘‘
’’ ایسا نہ کہیں پلیز، مرے آپ کے دشمن …آخر آپ کی عمر ہی کیا ہے ؟‘‘پھول بانو نے ہمیں ایک جملے میں اتنا کم عمر بنا دیا تھا کہ ہم خود کوکالج اسٹوڈنٹ سمجھنے لگے …پھول بانو نے سلسلہ ٔ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا:’’ مرنے کی جلدی نہ کریں، اور یہ نہ بھولیں کہ آپ کو بہت سارے ادھورے کام پورے کرنے ہیں … یاد رکھیے کہ آپ نے سونے کا نیکلس دلانے کا مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے … کیا ہے نا آپ نے وعدہ مجھ سے؟ ‘‘ پھول بانو نے ہمیںاقبالی بیان دینے پرمجبورکیاتو ہم نے سر کو ہلکی سی جنبش دی اور پھر نہ جانے ہم کس جہاں میں کھو گئے !
وہ خوفناک رات ہم نے کس طرح کاٹی ہم ہی جانتے ہیں جب کہ سارا دن ہم نے بنا کچھ کھائے گزار دیا…
ایک ستم رسیدہ مہمان کا قول ہے ’’ مہمان نوازی اور خلوص کے نام پر مہمان کے پیٹ سے کھیلنا، اس کے دل سے کھیلنے کے مترادف ہوا کرتا ہے…‘‘ اور وہ ستم رسیدہ مہمان کوئی اور نہیں ہم خود ہیں… کچھ میزبان خلوص کے نام پر ’’صرف دو نوالے میری طرف سے‘‘ کا پرکشش نعرہ مارکر مہمان کواتنا کچھ کھلا دیتے ہیں کہ وہ بیچارہ ’’ ہاج مولا‘‘ کھانے تک کے قابل نہیں رہتا …
ہم مہمان بن کر عموماًویسے ہی پریشان ہو جاتے ہیں جیسے اس مہمان خانے میں نیا مہمان آکر پریشان ہوجاتا ہے اور رونے لگتا ہے ۔ کہنے والوں نے کیا خوب کہا ہے ’’دنیا ایک مہمان خانہ ہے لہٰذا اس میں پر سکون رہنے کے لیے خود کو مسافر رکھنا ضروری ہے ،اگر دنیا کو مستقل ٹھکانہ سمجھ کر اس سے دل لگا بیٹھے تو جدائی کے وقت بہت زیادہ غم اور تکلیف کا سامناہوتا ہے۔
دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پر اس طرح
دشمن کے گھر میں جیسے کوئی مہماں رہے
قائم چاندپوری
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button