یمن میں حوثی باغیوں کے 2 ہزار جنگجو بچے ہلاک: اقوام متحدہ

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں یمن کے نائب مندوب مروان نعمان نے ستمبر 2021ء میں بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے 2014ء کے بعد سے 35 ہزار سے زیادہ یمنی بچوں کو بھرتی کیا۔ ان میں 17فیصد کی عمر 11 برس سے کم ہے جب کہ 6700 سے زیادہ بچے اب بھی لڑائی کے محاذوں پر موجود ہیں۔

اقوام متحدہ: یمن کی صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اپنے زیر اثر علاقوں میں یمنی بچوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔

اس مقصد کے لیے مساجد اور اسکولوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔اسی طرح رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے دس سے سترہ برس کے چودہ سو سے زیادہ بچوں کو بھرتی کیا گیا۔ یہ بچے 2020ء کے دوران میں ہونے والے معرکوں میں مارے گئے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بچوں کی بھرتی کرنے والے حوثی عناصر پر پابندیاں عائد کی جائیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ڈرون طیارے، میزائل اور دھماکا خیز آلات اکٹھا کیے۔

اسی طرح واضح کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ برس بڑے پیمانے پر سمندری بارودی سرنگیں بچھائیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں یمن کے نائب مندوب مروان نعمان نے ستمبر 2021ء میں بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے 2014ء کے بعد سے 35 ہزار سے زیادہ یمنی بچوں کو بھرتی کیا۔ ان میں 17فیصد کی عمر 11 برس سے کم ہے جب کہ 6700 سے زیادہ بچے اب بھی لڑائی کے محاذوں پر موجود ہیں۔

یمن میں انسانی حقوق کا نیٹ ورک یہ تصدیق کر چکا ہے کہ یمنی بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے 20977 واقعات سامنے آئے۔ علاوہ ازیں جنوری 2017ء سے مارچ 2021ء تک حوثیوں کے ہاتھوں 43 ہزار سے زیادہ یمنی بچے جبری ہجرت اور نقل مکانی کا شکار ہوئے۔

قوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یمن میں جنگ کے لیے حوثی باغیوں نے بڑی تعداد میں جنگجو بچے شامل کیے ہیں اور صرف ڈیڑھ سال میں 2 ہزار بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے مساجد، مدارس اور اسکولوں میں جاکر اپنے نظریات کا پرچار کیا اور نوعمر جنگجووں کی بھرتی کا عمل شروع کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 سال سے جاری جنگ میں حوثی باغیوں کے اکسانے پر ہزاروں بچوں نے جنگی تربیت حاصل کر کے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا اور جنوری 2020 سے مئی 2021 کے دوران تقریباً 2 ہزار نوعمر جنگجو بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

یمن کی جنگ میں حوثی باغیوں کی جانب سے نوعمر لڑکوں کو بھرتی کرنے پر عالمی تنظیمیں پہلے بھی احتجاج کرتی ا?ئی ہیں اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی یہ نکتہ پہلی ترجیح تھا تاہم مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ یمن میں 2014 سے حوثی باغیوں اور سعودی فوجی اتحاد کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے جس میں سوا لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بچے غذائی قلت کے باعث جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button