یوسف نامہ

محدث دکن‘ ابوالحسن عبداللہ شاہؒ

ہے حقیقت میں یہی بس حمد یار

یاد تو اس کی کرے لیل و نہار

ہے یہی تشریف و تکریم خدا

یہ بھی پڑھیں

حکم پر اس کے کرے جاں کو فدا

کس سے ہووئے نعت ختم المرسلین

جز بذات پاک ربُّ العالمین

رونق گلزار محبوبی ہے وہ

عشق کے بازار کی خوبی ہے وہ

اے اللہ۔ اے ہمارے محبوب اے ہمارے مقصود آپ کی کتنی نعمتیں آج سے نہیں پیدا ہونے کے بہت پہلے سے ہم کو عطا ہو رہی ہیں۔ ہم نسیاً منسیاً تھے ہم کو آپ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ دنیا میں آنے کے لئے جو ہم پر طرح طرح کے انقلابات آ رہے تھے اس وقت آپ ہی ہماری حفاظت فرما رہے تھے۔ آپ ہی کی آنکھوں کے سامنے آپ ہی کے ہاتھوں میں کیا سے کیا تغیرات ہوتے ہوئے جب ہم نے زمین پر قدم رکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے آ پنے لذیذ خوشگوار غذاء ماں کے سینہ میں تیار کر رکھی ہے۔

 آپ کی کریمی کے صدقے، ہم سے زیادہ آپ کو ہمارا خیال ہے۔ جب ہم دنیا کی ہوا کھانے لگے تو ہم کو طرح طرح کی وہ ضرورتیں پیش آنے لگیں جو اور مخلوق کو بھی ہوتی ہیں، مگر ہماری ضرورتیں پوری ہونے کے لئے آپ نے وہ وہ انتظامات فرمائے ہیں جو دوسری مخلوق کو نصیب نہیں۔ ہم آپ کے کس کس احسان کو یاد کریں جیسے آپ نے ہماری ضرورت کی چیزیں ہمارے لئے تیار کردی ہیں۔ ویسے ہی ان چیزوں کو بھی جن کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ صرف ہماری زینت اور رونق میں کام آتی ہیں۔ وہ بھی ہمارے لئے تیار فرمادیں۔ آپ کی تمام نعمتوں سے افضل و اعلیٰ عشق کی نعمت ہے۔ اسی نعمت سے انسان انسان ہے ورنہ پھر وہ حیوان کا حیوان ہی ہے۔

عشق را نازم کہ یوسف را ببازار آورد

ہمچو صنعا زاہدے را زیر زنار آورد

عشق پر مجھ کو ناز ہے اَن ہونے کام عشق کر دکھاتا ہے۔ یوسف جیسے پیغمبر کو کنعان سے کشاں کشاں مصر کے بازار میں پہنچاتا ہے۔ صنعا جیسے زاہد کو زنار پہنا کر چھوڑتا ہے۔

بن مانگے بے گنتی نعمتیں دینے والے اللہ۔ جیسے ہم نے آپ کی اور نعمتوں کی قدر نہ جانی ویسے ہی ہم نے آپ کی اس نعمتِ عشق، کی بھی کچھ قدر نہ کی۔ عشق و محبت کس سے کرنا چاہئے تھا۔ اب ہم کس سے کر رہے ہیں۔ دنیا کی ہر چیز سے ہم کو محبت ہے۔ ایک نہیں ہے تو فقط آپ سے۔ کوئی اولاد پر مر رہا ہے تو کوئی عورتوں پر۔ کوئی جائیدادوں پر تو کوئی مال و دولت پر۔ سب غلطی پر ہیں۔ اور اپنی غلطی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

افسوس! ہم نے یہ نہ سمجھا کہ مخلوق کی محبت میں عمر بھر گھلنا اور جلنا ہے۔ چین اور اطمینان ہے تو خدا ہی کی محبت میں ہے۔ اس لئے کہ دل کی ہلاکت غیر خدا کی محبت میں غرق ہونے سے ہے۔ جس دل میں خدا کی محبت ہوگی وہ خدا کا راستہ چلے گا اور جس دل میں غیرخدا کی محبت ہوگی وہ ہمیشہ ٹیڑھے راستہ پر بھٹکتا ہی رہے گا۔

میرے دوستو! یہ دل بنا ہی ہے کسی نہ کسی کو دینے کے لئے۔ اگر خدا کو نہ دوگے تو اور کوئی اس دل کو لے لیگا۔ غیر خدا کو دل دینے والو! چند روز عیش و آرام کرلو۔ کہاں گیا فرعون اور کہاں ہیں ساسانی اور کس جگہ ہیں کیانی؟ روم کے قیصر کہاں چھپ گئے اور یونان کی اولوالعزم قومیں کہاں جا بسیں؟ ہندوستان کے قدیم راجگاں کہاں گئے پھر خلجی اور تغلق، لودھی کہاں چلے گئے؟

 تیموریوں کا اوج موج کہاں گیا؟ رہے نام اللہ کا۔ یہ ہے انجام غیر خدا کو دل دینے والوں کا۔ جنہوں نے خدا کو دل دیا ہے۔ ان کو اپنی ٹوٹی پھوٹی حالت میں وہ لذت ملتی ہے جو سلطنت میں بھی نہ ہوگی۔ چنانچہ بعض بندگانِ خدا نے جب سلطنت چھوڑ کر خدا کی محبت اختیار کی تو پھر کبھی سلطنت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔

میرے دوستو! اگر چین و اطمینان چاہتے ہو تو خدا کی محبت پیدا کرو۔ اسی سے علاقہ جوڑو اور تمام عالم سے کہہ دو کہ ہم نے ایک ذات سے علاقہ جوڑ لیا ہے۔ جو اس سے ملے وہ ہمارا دوست ہے۔ جو اس سے الگ رہے وہ ہم سے الگ ہے۔ اطاعت کریں گے تو ہم اسی کی۔ احکام مانیں گے تو ہم اسی کے۔ جب یوں تم اس کے ہوجاؤگے تو کیا وہ تمہارا نہیں ہوگا؟ ضرور ہوگا کیسے نہ ہوگا۔ بار بار تو اس کی طرف سے اس طرح ندا ہوتی رہتی ہے۔

’’بندے ہم تیرے ہیں تو بھی ہمارا ہوجا‘‘ جب تم اس کے ہوجاؤگے تو راحت کی زندگی تم کو ملے گی، اور حیاۃ طیبہ تم کو حاصل ہوگی اور جو غیر خدا کی محبت میں غرق ہوجاتے ہیں تو ان کی صرف عقلِ معاش رہتی ہے عقلِ معاد چھین لی جاتی ہے۔ کھانے پینے، جماع کی خواہشات میں جانوروں کی طرح گھر جاتے ہیں۔ جسمانی لذات کے ظلمات میں رات دن پھنسے رہتے ہیں۔ درندوں کی طرح عادتیں ہوجاتی ہیں۔ جس چیز کی وجہ سے انسان کی ایک عالم میں دھوم مچی ہوئی ہے۔

وہ دل ہے۔ یہ اسی دل کو جس سے ان کی قدر ہے سیاہ کوئلہ بنا دیتی ہیں دنیا میں ان کے دل ایسے پھنسے ہوئے رہتے ہیں کہ ان کو اللہ یاد آتا ہے نہ اللہ کے سامنے جانے کا کچھ ڈر رہتا ہے۔ ایسی حالت میں رہنے والوں کو چاہئے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا بغور مطالعہ کریں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگو تم جانور نہ بنو۔ تم درندے نہیں ہو۔ درندہ پن چھوڑ دو۔ تم سیاہ دل لے کر نہیںآئے ہو۔ تمہارا دل سادہ تھا۔ دل کو جِلاء کر نورانی بنا کر مظہر تجلیات بنانے کے لئے آئے ہو تو دل کو مظہرِ تجلیات بنالو۔

سونچو، خوب سونچو۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ جس محبت کا محبوب باقی، وہ محبت باقی اور اسکا محب باقی اور فانی محبوب کا عشق فانی ہوتا ہے، فانی عشق کے ساتھ عاشق بھی فانی، معشوق بھی فانی اور اس فانی عشق کا انجام حرمان ہی ہوتا ہے۔ ذرا مجنوں کو دیکھو لیلیٰ کا عاشق ہوا۔ چھوٹی سی عمر میں لیلیٰ کے عشق کی آگ مجنوں کے سینے میں بھڑکی۔ ہمیشہ سرگرداں رہا۔ عمر بھر لیلیٰ لیلیٰ پکارتا رہا اور کبھی ریت کو کاغذ، انگلی کو قلم، بنا کر لیلیٰ کا نام لکھا کرتا تھا۔ کسی نے اس سے پوچھا مجنوں یہ کیا کر رہے ہو؟

گفت مشق نام لیلیٰ می کنم

خاطر خود را تسلی می دہم

(مجنوں نے کہا محبوبہ تو ملتی نہیں اس کے نام سے ہی دل کو تسلی دے رہا ہوں)

لیلیٰ کے عشق میں کیا کیا کیا آخر مجنوں کہلایا۔ فانی عشق سے مجنوں کو یہ ثمرہ ملا پھر ایک دن لیلیٰ کے فراق میں کسی جنگل میں مر کر رہ گیا۔

اے مجنوں! کاش یہ عشق کی طاقت تو خالقِ لیلیٰ کی جانب صرف کرتا دونوں جہاں میں کامیاب رہتا۔ زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتوں کا واقعہ تو آپ نے سنا ہوگا۔ یہ عورتیں مصر کے معزز لوگوں کی تھیں جو یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ان کے عشق میں پاگل ہوگئیں۔ کوئی پاگل خانہ میں جاکر مری، کوئی مصر کی گلی کوچوں میں یوسف یوسف پکارتی ہوئی مری۔ سب کے سب دین دنیا سے کھوگئیں۔

اے عورتو! ایسی محبت تمہیں یوسفؑ کے خالق، محبوب حقیقی، رب العالمین سے کرنی چاہئے تھی۔ یہ کس فانی عشق میں تم نے اپنی جانیں دے ڈالیں۔ ہائے پھر جان دینے کا کچھ مزہ بھی نہ پایا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button