یوم نکبہ پر فلسطین میں احتجاجی مارچ اور ریالیوں کااہتمام

اسرائیل کی جانب سے 15 مئی 1948 کو فلسطینیوں کا اخراج عمل میں لاتے ہوئے یہودی حکومت کا قیام عمل میں لایاگیا۔ بتایاجاتاہے کہ 7لاکھ50ہزار فلسطینیوں کو بیدخل کرکے حکومت قائم کی گئی جس کی یاد میں آج یوم نکبہ منایا جارہاہے۔

یروشلم: اسرائیل کی جانب سے 15 مئی 1948 کو فلسطینیوں کا اخراج عمل میں لاتے ہوئے یہودی حکومت کا قیام عمل میں لایاگیا۔ بتایاجاتاہے کہ 7لاکھ50ہزار فلسطینیوں کو بیدخل کرکے حکومت قائم کی گئی جس کی یاد میں آج یوم نکبہ منایا جارہاہے۔

لفظ نکبہ کے معنی تباہی و بربادی کے ہوتے ہیں۔ عربی زبان کے اس لفظ سے استفادہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جانب سے آج یہ تقریب منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر فلسطینیوں کی جانب سے انہیں مذکورہ مقام سے خارج کرکے اسرائیل کے ظلم و تشدد سے عوام کو واقف کروایا جاتاہے۔

1947-1949 کے درمیان فلسطینیوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ ٹوٹے گئے۔ بتایا جاتاہے کہ نسلی امتیازات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہودیوں نے یہ کاروائی کی اور ایسے کئی علاقوں میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے تباہی مچائی جہاں پر فلسطینی موجود تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ 530 مواضعات کو تباہ کردیاگیا اور 15000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کرتے ہوئے یہودیوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کرلی۔اس سال النکبہ کے 74سال ہوتے ہیں۔ 15مئی کو جبکہ اسرائیل نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اکثریت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت تشکیل دی اور لاکھوں فلسطینیوں کو جبری طور پر بیدخل کردیا۔ بتایا جاتاہے کہ اسرائیل کے اس طرح کی کاروائی کی یاد میں فلسطینی ہر سال یوم نکبہ مناتے ہیں۔

یہودیوں کی جانب سے 78 فیصد فلسطینی علاقے کو حاصل کرلیاگیا ہے۔اس طرح کئی مواضعات اور شہروں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کرلی۔ یہ سالانہ تقریب ایک ایسے موقع پرمنائی جارہی ہے جبکہ الجزیرہ کی خاتون صحافی شرین ابو عقیلہ کے قتل پر مختلف گوشوں سے برہمی کااظہار کیاجارہاہے۔

علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب یوم نکبہ کی 74ویں برسی پر یورپ کے مختلف ملکوں کی دارالحکومت میں عوام نے سڑکوں پر آکر فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور شہید فلسطینی نامہ نگار کے قتل کی مذت کی۔14 مئی 1948 کو 7 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو انکے وطن سے زبردستی نکالا گیا اور وہاں اسرائیل کو غاصبانہ وجود دیا گیا۔ اس غم انگیز واقعے کی یاد یوم النکبہ کے نام سے منائی جاتی ہے۔

پریس ٹی وی کے مطابق، یوم النکبہ کی مناسبت سے سنیچر کو لندن میں منعقدہ ریلی میں سماج کے مختلف طبقے کے لوگ شریک ہوئے۔ہفتہ کو دوپہر بعد برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کی طرف مارچ کرنے سے پہلے لوگ، مرکزی لندن میں بی بی سی کے ہیڈکوارٹر کے باہر اکٹھا ہوئے۔ہاتھوں میں فلسطینی پرچم لئے لوگ نعرے لگا رہے تھے اور صیہونی فورسز کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خلاف جاری ظلم پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے۔

تل ابیب یونیورسٹی میں 3 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیاگیا۔ریالی میں عوام نے فلسطینی نامہ نگار شیرین ابو عاقلہ کی صیہونی دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل کی بھی مذمت کی، جنہیں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ مقبوضہ ویسٹ بینک کے جنین کیمپ پر صیہونی دہشتگردوں کے حملے کی رپورٹنگ کر رہی تھیں۔

اسی طرح کا مظاہرہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی ہوا جس میں عوام نے فلسطینیوں کے خلاف دہائیوں سے جاری اسرائیل کے جرائم کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔آسٹریا کے دار الحکومت ویانا میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آئے اور انہوں نے یوم النکبہ کی چوہترویں برسی پر منعقدہ ریلی میں شرکت کی۔

انہوں نے صیہونی دہشتگردوں کے ہاتھوں شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی مذمت کی۔اسی طرح کا مظاہرہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپنہیگن میں بھی منعقد ہوا جس میں عوام نے یوم النکبہ کی یاد منانے کے ساتھ ہی فلسطینی خاتون نامہ نگار شیرین ابو عاقلہ کی غاصب صیہونیوں کے ہاتھوں قتل کی پر زور مذمت کی۔

تبصرہ کریں

Back to top button