یوپی میں انحراف کا سلسلہ جاری، ایک اور وزیر مستعفی

انہوں نے اپنا سیکوریٹی کور اور ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں الاٹ کردہ قیام گاہ واپس کردی ہے۔ دھرم سنگھ سینی مملکتی وزیر (آزادانہ چارج) برائے آیوش‘ فوڈ سیکوریٹی اینڈ ڈرگ اڈمنسٹریشن تھے۔

لکھنو: اترپردیش کے وزیر دھرم سنگھ سینی نے بھی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سوامی پرساد موریہ اور داراسنگھ چوہان کے بعد استعفیٰ دینے والے وہ تیسرے وزیر ہیں۔ سینی‘ ناکوڑ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنا سیکوریٹی کور اور ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں الاٹ کردہ قیام گاہ واپس کردی ہے۔ دھرم سنگھ سینی مملکتی وزیر (آزادانہ چارج) برائے آیوش‘ فوڈ سیکوریٹی اینڈ ڈرگ اڈمنسٹریشن تھے۔

گورنر کو استعفیٰ بھیجنے کے بعد وہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کے لئے روانہ ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینی نے اپنے مکتوبِ استعفیٰ میں وہی الزامات عائد کئے جو دیگر ارکان اسمبلی نے یوگی حکومت پر عائد کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ دلتوں‘ پسماندہ طبقات‘ کسانوں‘ بے روزگار نوجوانوں اور چھوٹے تاجرین کو بری طرح نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

بی جے پی کے اترپردیش یونٹ میں گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی انحرافات دیکھے گئے ہیں جس کا آغاز کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ سے ہوا تھا۔ موریہ نے کہا تھا کہ مزید کئی ارکان اسمبلی‘ بی جے پی چھوڑدیں گے۔

او بی سی زمرہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کے بی جے پی چھوڑنے کے بعد اب برہمن رکن اسمبلی بالاپرساد اوستھی نے بھی سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

اوستھی‘ لکھیم پور کھیری سے 4میعادوں کے لئے رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور تیرائی علاقہ میں جاناپہچانا برہمن چہرہ ہیں۔ انہوں نے جمعرات کی دوپہر اکھلیش یادو سے بھی ملاقات کی۔

گزشتہ 2 دن کے دوران سوامی پرساد موریہ‘ داراسنگھ چوہان (دونوں وزرا)‘ روشن لال ورما‘ برجیندر پرجاپتی‘ بھاگوتی شرن ساگر‘ ونئے شاکیہ اور اوتار سنگھ بھدانہ پارٹی چھوڑچکے ہیں۔

جمعرات کے روز فیروز آباد کے مکیش ورما نے بھی اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔ دھرم سنگھ سینی نے ان کے نقش ِ قدم پر عمل کیا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button