یوپی میں ہندوتوا کا بھوت سیکولرازم کو نگل گیا

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

ملک کی پانچ ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور کی اسمبلیوں کے انتخا بی نتائج آ چکے ہیں۔یہ انتخابات 10 فروری تا7مارچ 2022سات مرحلوں میں مکمل کئے گئے۔ 10 مارچ کو ان اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ان انتخابات کو 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جا رہا تھا۔ یہ پانچوں ریاستیں اپنی اپنی خاص اہمیت رکھتی ہیں ۔ لیکن سب کی نظریں اتر پردیش کے نتائج پر ٹکی ہوئی تھیں۔توقع کی جا ری تھی کہ یوپی کے عوام اپنے سیاسی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے ان طاقتوں سے اقتدار چھین لیں گے ، جنہوں نے گز شتہ پانچ سال کے دوران یوپی میں سوائے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے اور کوئی کام نہیں کیا۔ ریاست کے رائے دہندے مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات پانے کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت سے چھٹکارا پائیں گے۔ کورونا کے دوران ان کو جن ناقابلِ بیان اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا اس کا بدلہ اس الیکشن میں لیا جائے گا۔ اورملک کے کسان جو یوگی اور مودی دونوں سے سخت ناراض تھے جم کر ان کے خلاف مہم چلائیں گے اور پھر ایک مرتبہ یوپی میں بی جے پی کی سرکار بننے نہیں دیں گے۔ لیکن ان ساری توقعات پر پانی پھر گیا ۔بی جے پی ، اتر پردیش میں دوبارہ بھاری اکثریت سے کا میاب ہو گئی۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے دوبارہ چیف منسٹر کی گدّی ہموار ہوگئی۔ مخالف حکومت لہرکے باوجود یوپی میں بی جے پی کا پھر سے اقتدار پر آنا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بی جے پی کی انتخابی ریالیوں میں عوام کی بہت کم تعداد میں شرکت ،بی جے پی کے ایم ایل یز کو اپنے حلقوں میں نہ آ نے دینا، اور پھر سماج کے مختلف طبقوں خاص طور پر دلتوں اور خواتین کی بی جے پی سے ناراضگی کے باوجود بی جے پی کی کا میابی یہ ثابت کر تی ہے کہ کہیں نہ کہیں نتائج کو اپنے حق میں کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پلاننگ ضرور کی گئی۔ نتائج سے دو دن پہلے وارنسی اور دیگر مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی غیر قانونی منتقلی جیسے واقعات کا منظر عام پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی نے اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے سرکاری عہدیداروں کو پابند کیا تھا۔ اسی طرح میڈیا کے ذریعہ بھی جس انداز میں بی جے پی کی کامیابی کو وقت سے پہلے بڑے زور و شور سے بیان کیا جا رہا تھا۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ جھوٹ اور مکر کا سہارا لیتے ہوئے بی جے پی میدان مارنے میں کامیاب ہوگئی۔ خاص طور پر وہ خاموش عناصر کا رول بہت اہم رہا جو بی جے پی کے لئے کام کرتے ہیں۔ آر ایس ایس کے وہ والینٹر جو سنگھ کی مختلف محاذی تنظیموں کا حصہ ہیں، انہوں نے بڑے منظم انداز میں ہندوتوا کی کا میابی کے لئے کام کیا۔ یہ عناصر اکثریتی عنا صر کو یہ تاثر دینے میں کا میاب ہو گئے کہ مہنگائی، بے روزگاری، ریاست کی ترقی وغیرہ یہ سب چیزیں بعد میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اصل جیت ہندوتوا کی ہے۔ ایک مرتبہ ملک میں ہندو راشٹر قائم ہوجائے گا تو پھر ہندوو¿ں کے لئے ہمیشہ عیش ہی عیش ہے۔ یہ وہ پروپگنڈا ہے جس کو پھیلانے میں بی جے پی کا میاب ہو گئی۔ ورنہ یوگی آد تیہ ناتھ کے کھاتے میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو انہیں دوبارہ مسندِ اقتدار پر لاتی۔ بی جے پی کے پاس پانچ سالوں کے کئے گئے کاموں میں عوام کو دکھانے کے قابل کوئی کام تھا ہی نہیں۔ جس کے بدلے وہ واقعی ووٹ کی حقدار ہو سکے۔ اس لئے عام ہندوو¿ں کو گھما پھرا کرہندوتوا کا چسکہ لگایا گیا ۔ اس سے متاثر ہوکر عام ہندو نے بی جے پی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا۔ یہ کہنا سچ ہو گا کہ بی جے پی جھوٹے پروپگنڈا کا چمتکار دکھا کر کا میاب ہو گئی۔
اتر پردیش میں بی جے پی کی کا میابی ملک کے سیاسی منظر کو کس حد تک بدلے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یوپی کے عوام بی جے پی کے بچھائے ہوئے جال میں بڑی آسانی سے پھنس گے۔ انہوں نے ہندوتوا کے جنون میں پھر ایک مرتبہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں دے دیا جن کے پاس ملک اور قوم کی ترقی کا کوئی مثبت ایجنڈا ہی نہیں ہے۔ الیکشن سے پہلے بی جے پی کی مقبولیت مسلسل گھٹ رہی تھی۔ کوویڈ۔19کے دوران یوگی حکومت کی نا اہلی پوری طرح سے ریاست کے عوام کے سامنے آ چکی تھی۔ دوائیں وقت پر نہ ملنے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل ہو چکے تھے۔ آکسیجن کی کمی کئی شِیر خوار بچوں کی جانیں لے لی تھیں۔ شمشان گھاٹوں میں مُردوں کو جلانے کے لیے قطاریں لگ رہیں تھیں، لاکھوں مزدور پیدل چلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ ساری مشکلات جھیل کر بھی یوپی کے رائے دہندوں نے بی جے پی کے حق میں اپنے ووٹ استعمال کیا ہے تو یہ بات نہ صرف حیران کن ہے بلکہ رائے دہندوں کی یہ سوچ ملک میں جمہوریت اور سیکولرازم کی برقراری کے لئے سوالات کھڑے کر دیتی ہے۔ آیا ملک کے شہری صرف زہر گھولنے والوں کا ساتھ دیں گے یا پھر ملک کی ترقی کے لئے کام کرنے کا جذ بہ رکھنے والوں پر اعتماد کر تے ہوئے انہیں مضبوط کر یں گے۔ بی جے پی اپنے مخصوص ایجنڈے کے سہارے عوام کو گمراہ کر کے ان کے ووٹ بٹورنا چاہتی ہے۔ مرکز سے لے کر یوپی تک ، بی جے پی نے عوام سے جو وعدے کئے تھے کیا وہ پورے نہیں ہوئے۔ یوگی حکومت کی نااہلی اور ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان انہوں نے دراڑ ڈالنے کی جو کوشش کی اس کی مثال اور نظیر سابق میں نہیں ملتی۔ الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن 80% اور 20% کے درمیان ہوگا۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ وہ مذہب اور ذات کی بنیاد پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ اسّی فیصد ہندوو¿ں کو وہ یہ باور کرانا چا ہتے تھے کہ بی جے پی ان کی پارٹی ہے۔ دلتوں اور مسلمانوں کو انہوں نے حا شیہ پر لادیا۔ اپنے پانچ سالہ دور میں یوگی حکومت نے ان دو طبقوں کے ساتھ ظلم اور جبر کا جو رویہ اختیار کیا، اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ ماب لینچنگ کے جو بدبختانہ واقعات یوپی میں پیش آ ئے اس میں ملوث افراد پر آج تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی طرح ہاتھرس اور دیگر مقامات پر دلت لڑکیوں کی عصمت ریزی کر کے انہیں زندہ جلادیا گیا۔ یہ ساری کارستانیاں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ہوئیں۔ جن لوگوں نے مسلمانوں کا قتل کیا تھا، انہیں اسمبلی اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے نوازا گیا۔ یہ سارے حربے اختیار کرکے بی جے پی پھر سے یوپی میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں کا میاب ہو جاتی ہے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس کا میابی کے پیچھے ملک کی سیکولر پارٹیوں کارول کیا رہا۔ ہر الیکشن کی طرح اس مرتبہ بھی سیکولر پارٹیاں متحد ہوکر بی جے پی کو شکست دینے میں ناکام ہو گئیں۔ اگر الیکشن سے پہلے سیکولر پارٹیوں کا کوئی محاذ بن جاتا یا کم ازکم انتخابی مفاہمت ہوجاتی تو بی جے پی کی طاقت کو توڑا جا سکتا تھا۔ ہر سیکولر پارٹی اپنے انا کے خول میں بند رہی۔ اس میں شک نہیں اکھلیش یادو نے بی جے پی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔ ان کی قیادت میں سماجوادی پارٹی نے ہر سطح پر بی جے پی کو روکنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن اکھلیش کا چیف منسٹربننے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ انتخابی مہم کے دوران ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ رائے دہندے سماجوادی پارٹی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں گے ۔ ان کے انتخابی جلسوںمیں بھیڑ کو دیکھنے سے پتہ چل رہا تھا اب کی بار یوپی میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بنے گی۔ نتائج کے آنے سے پہلے تک اکھلیش یادو یہی دعویٰ کر تے رہے کہ ان کی پارٹی یوپی میں حکومت بنائے گی۔ لیکن ایساممکن نہ ہو سکا۔
ملک کی قدیم پارٹی کانگریس نے یوپی میں اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کر نے کی جان توڑ کوشش کی۔ خاص طور پر پرینکا گاندھی نے پورے جوش و خروش کے ساتھ مہم چلائی۔ عوام نے ان کا والہانہ استقبال بھی کیا۔ لیکن پھر بھی یوپی میں وہ کوئی کلیدی رول ادا نہ کر سکی۔ یوپی، کانگریس کا روایتی گڑھ رہا ہے۔ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو سے لے کر اندراگاندھی تک یوپی میں سوائے کانگریس کے کسی کی نہیں چلتی تھی۔ لیکن آج اُ سی ریاست میں کانگریس اپنی بقاءکی لڑائی لڑ رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس کی آج جو درگت سارے ملک اور خاص طور پر یوپی میں ہوئی ہے اس کی اصل ذ مہ دار خود کانگریس کی قیادت ہے۔ کانگریس میں شروع سے ایک ایسا ٹولہ رہا جو سنگھ پریوار سے قربت رکھتا رہا۔ کانگریس میں بھی ہندوتوا عناصر موجود رہے۔ یہی وہ گروہ ہے جس نے کانگریس کو جمہوری اقدار اور سیکولر روایات سے انحراف کرنے کا درس دیا۔ کانگریس اپنی دیرینہ روایات پر قائم رہتی تو ہندوتوا کا بھوت اس طرح سیکولرازم کو نگلتا ہوا آگے نہ بڑھتا۔ نرم ہندواتو کی پالیسی اپنانے کے نتیجہ میں کانگریس اپنی حقیقی پہچان کھو بیٹھی۔ آر ایس ایس کے نظریہ کو قبول کر نے کے بجائے کانگریس ،گاندھی، نہرو اور امبیڈکر کے نظریات پر ملک کو چلانے کا عزم اپنے اندر پیدا کرتی تو آج ہندوتوا اس طرح دندناتے ہوئے نظر نہ آ تا۔ دو ارکانِ پارلیمنٹ سے اپنا پارلیمانی سفر شروع کرنے والی پارٹی اب ملک کے سیاہ و سفید کی مالک بن گئی ہے۔ جب کہ کانگریس کی قیادت میں یہ ملک آز اد ہوا تھا۔ آ زادی کے کئی دہوں تک ملک کا اقتدار کانگریس کے ہاتھوں میں رہا۔ اس دوران کانگریس اقتدار کی خاطر فرقہ پرست طاقتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہ دیتی تو ملک میں یہ بدترین صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ بہرحال کانگریس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دیرینہ پالیسی کی طرف واپس ہو۔ ہندوتوا کو شکست دینے کے لئے سیکولرازم کا راستہ ہی بچتا ہے۔ اس ملک کی ساری سیکولر پارٹیاں اگر واقعی سیکولر اقدار کو اپنالیں تو ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی ہو سکتی ہے۔ یوپی الیکشن میں کانگریس کا جو مظاہرہ سامنے آیا ، وہ کانگریس قیادت کے لئے ایک نوشتہ دیوار ہے۔ کانگریس ملک میں کیوں سکڑتی جارہی ہے۔ اس کا جائزہ لئے بغیر کانگریس اپنا کھویا مقام دوبارہ حا صل نہیں کر سکتی۔ یوپی الیکشن میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے بھی اپنے تمام تر دعوو¿ں کے باوجود برائے نام نشستیں حاصل کیں۔ مایا وتی، ایک سیماب صفت سیاستدان کی حیثیت سے شہرت رکھتی ہیں۔ حالیہ الیکشن میں انہوں نے اپنی کوئی زیادہ کارکردگی نہیں دکھائی۔ بعض گوشوں کا ماننا ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے خاموشی سے مبینہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ یہ ایک فیکٹر بھی بی جے پی کو کا میابی دلانے میں مددگار ثابت ہوا ۔ حالیہ نتائج سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے ہندوو¿ں کے مختلف طبقے بی جے پی کے ہمنوا بن گئے۔ اکھلیش یادو بھی تمام یادو¿ں کے ووٹ حاصل نہیں کر سکے۔ برہمن طبقہ شروع سے بی جے پی کی تائید میں رہا ہے۔ بی جے پی نے "انڈر کرنٹ”کام کیا ہے۔ اس لئے وہ یوپی میں اس بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار پر دوبارہ واپس آئی ہے۔ ابھی نتائج آئے ہیں۔ یہ بات صاف ہوگئی کہ یوپی میں بی جے پی، پنجاب میں عام آدمی پارٹی ، اتر اکھنڈ ، منی پور اور گوا میں بی جے پی حکومت بنائے گی۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ دہلی ریاست کے بعد عاپ کو پنجاب میں حکومت بنانے کا موقعہ مل رہا ہے۔ الیکشن آ تے اور جاتے رہیں گے۔ عوام کے مسائل کیسے حل ہوں گے یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2024 میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے سیکولر پارٹیاں کیا حکمت عملی اختیار کریں گی۔ ورنہ ہندوتوا کا بھوت سارے ملک میں ایسی تباہی مچادے گا کہ الیکشن برائے نام ہوکر رہ جائیں گے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button