یوکرینی مسلمانوں کا رمضان سکون سے گزرے، دوحہ فورم سے زیلنسکی کا خطاب

زیلنسکی نے روس پر تنقید کی اور کہا کہ روس دنیا کو اپنے نیوکلیر ہتھیاروں سے دھمکارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یوکرینی مسلمانوں کو آنے والے مقدس ماہ رمضان میں حالت جنگ میں رہنا پڑے گا۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ اس رمضان میں یوکرین میں عوام کے مسائل نہ بڑھیں۔

دوحہ: یوکرینی صدر نے ہفتہ کے دن قطر کی دوحہ فورم میں حیرت انگیز ویڈیو حاضری دی۔ انہوں نے تیل کی دولت سے مالامال ملک قطر اور دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ روسی سپلائی درہم برہم ہونے سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے لئے اپنی پیداوار بڑھادیں۔ زیلنسکی نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی مدد کے لئے آگے آئیں۔ 24 فروری سے زیلنسکی نے سلسلہ وار خطابات کئے ہیں۔

 انہوں نے یوکرینی بندرگاہی شہر ماریوپول میں روسی فوج کے ہاتھوں تباہی کا تقابل شام سے کیا۔ انہوں نے شام کی جنگ میں وہاں کے شہر الیپومیں روس کے ہاتھوں تباہی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوج ہماری بندرگاہوں کو تباہ کررہی ہے۔ یوکرین سے برآمدات نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک کو دھکا پہنچے گا۔ یوکرینی گیہوں کی برآمد نہ ہونے سے مصر جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک پریشان ہیں جن کا انحصار ہماری برآمدات پر ہے۔ زیلنسکی نے دنیا کے ممالک سے کہا کہ وہ اپنی توانائی برآمدات بڑھادیں۔

خاص بات یہ ہے کہ قطر‘قدرتی گیس کی برآمدات میں ورلڈ لیڈر ہے۔ مغربی تحدیدات نے روسی برآمدا ت کو بڑی حد تک گھٹادیا ہے۔ یوروپی ممالک کے لئے روسی برآمدات کافی اہم ہیں۔ دوحہ فورم میں سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان بھی موجود تھے۔ سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کا حال تک یہی موقف ہے کہ وہ اوپیک پلس پروڈکشن شیڈول کا پابند ہے۔

مملکت سعودی عرب یہ بھی کہہ چکی ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے لئے اسے ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ یمن کے حوثی باغی اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنارہے ہیں۔ زیلنسکی نے روس پر تنقید کی اور کہا کہ روس دنیا کو اپنے نیوکلیر ہتھیاروں سے دھمکارہا ہے۔ امکان ہے کہ جاریہ جنگ میں وہ نیوکلیر ہتھیار استعمال کرے گا۔ زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرینی مسلمانوں کو آنے والے مقدس ماہ رمضان میں حالت جنگ میں رہنا پڑے گا۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ اس مقدس ماہ رمضان میں یوکرین میں عوام کے مسائل نہ بڑھیں۔

اسی دوران قطری امیر نے گزشتہ 70 برس سے فلسطینیوں کے ساتھ روا سلوک پر اسرائیل کو نشانہ ئ تنقید بنایا۔ شیخ تمیم بن حمادالثانی نے فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ پر تنقید کی۔ شیخ تمیم نے یہ تنقید ایسے وقت کی ہے جب بحرین اور متحدہ عرب امارات (یو اے این) 2020میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرچکے ہیں۔

 اسرائیلی وزیر خارجہ سے جب ان کا ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی تو فوری جواب نہیں ملا کیونکہ ہفتہ کے دن اسرائیل میں تعطیل ہوتی ہے اور سرکاری دفاتر بند رہتے ہیں۔ قطر‘ خطہ میں اسلام پسند گروپس کا حامی ملک ہے۔ اس نے اسرائیل کی اجازت سے غزہ میں انسانی امداد بڑھادی ہے۔ اس نے نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس وہاں بھیجے ہیں۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button