یوکرین سے اپنے بیٹے کی بحفاطت واپسی پر رضیہ بیگم مسرور

حیدرآباد : لاک ڈاؤن کے دوران اپنے بیٹے امان کے تحفظ کیلئے ماں رضیہ بیگم نے 1,400 کیلو میٹر کا سفر موٹر سائیکل پر طئے کیا تھا، اب بیٹے کی یوکرین سے بحفاظت واپسی پر مسرور ہیں۔ 21 سالہ محمد نظام الدین امان جو جنگ زدہ یوکرین میں پھنس گیا تھا، جمعہ کو بحفاظت واپس ملک پہنچ گیا۔ وہ، یوکرین کی سومی اسٹیٹ یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس میں زیر تعلیم تھا۔

روزنامہ منصف کو ایک خصوصی انٹرویو میں طالبعلم امان کی والدہ رضیہ بیگم نے کہا کہ اُن کا لڑکا بارڈر پر تھا اور اُس نے ایک دن میں 11 بموں کے دھماکہ اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب کبھی سائرن کی آواز سنتا تو یہ لڑکا اپنے ساتھیوں کے ساتھ بنکرس میں چلاجاتا تاکہ جان بچا سکے۔ صرف کھانے کیلئے باہر نکلتے تھے لیکن پوری طرح سے انھیں کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور ساتھ ہی پانی کا بھی مسئلہ درپیش رہا۔

وہ پانی کیلئے برف اٹھا لاتے اور اُس کو توا پر رکھ کر گرم کر کے پانی حاصل کرتے اور اُس کو پیتے تھے۔ ایک مرتبہ برقی گھر پر بم گرایا گیا جس کے نتیجہ میں ساری رات اندھیرے میں گذارنا پڑا۔ لاک ڈاؤن واقعہ کو یاد کرتے ہوئے رضیہ بیگم نے کہا کہ ان کا لڑکا رحمت آباد میں عرس کیلئے اپنے دوستوں کو چھوڑنے گیا تھا کہ لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا جس کی وجہ سے یہ لڑکا ایک فنکشن ہال میں ٹھہر گیا تھا۔ رضیہ بیگم نے یہ سوچا کہ اُن کا لڑکا کورونا وباء سے متاثر ہوجائے گا اسی لئے انھوں نے موٹر سائیکل پر اپنے لڑکے کو واپس لانے کا فیصلہ کیا۔

رضیہ بیگم جو سرکاری ٹیچر ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ سوشیل ورکر بھی ہیں اور اپنے لڑکے کی تنہا سرپرست ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 14 سال قبل اُن کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ جب امان جماعت اول کا طالب علم تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کس طرح سوشیل ورکر بنیں، جب اُن کا لڑکا صرف 15 ماہ کا تھا، اُن کے شوہر گردہ کے عارضہ میں مبتلا ہوگئے تب رضیہ بیگم نے ڈیلائیسس کیلئے 35 لاکھ روپئے خرچ کئے لیکن اُن کے شوہر جانبر نہ ہوسکے۔ اس کے بعد انھوں نے سوشیل ورکر کے طورپر کام کرتے ہوئے گردہ کے عارضہ سے دوچار لوگوں کو سہولت پہنچانے کا کام انجام دینے لگیں۔

رضیہ بیگم شوہر کے انتقال کے بعد سے اپنے تین بچوں کی پرورش کررہی ہیں۔ امان سب سے چھوٹا لڑکا ہے۔ اُن کا بڑا لڑکا میکانیکل انجینئرنگ کررہا ہے جبکہ لڑکی عائشہ تبسم گریجویشن میں زیر تعلیم ہے۔ 52 سالہ سرکاری ٹیچر رضیہ بیگم جو ضلع نظام آباد سے تعلق رکھتے ہیں، لاک ڈاؤن میں 1400 کیلو میٹر کا فاصلہ طئے کرنے کی وجہ سے سرخیوں میں آگئی تھیں۔

Back to top button