یوکرین مسئلہ کا حل بات چیت سے ہی ممکن: چین

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک یوکرین میں جاری فوجی آپریشن کو مزید ہوا دینے والے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

بیجنگ: چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک یوکرین میں جاری فوجی آپریشن کو مزید ہوا دینے والے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

وانگ نے ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ فون پر بات چیت میں کہا کہ یوکرین کا مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کا تعلق نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں سے ہے، بلکہ مختلف فریقوں کے سلامتی کے مفادات سے بھی گہرا تعلق ہے۔

انہوں نے امریکہ سے اپیل کی کہ وہ موجودہ بحران کو حل کرنے اور خطے میں طویل مدتی استحکام برقرار رکھنے پر توجہ دے۔ژنہوا نے مسٹر وانگ کے حوالے سے کہا کہ چین کو امید ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ جلد ہی رک جائے گی، موجودہ صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ شہریوں اور ان کی املاک کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ ساتھ وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر بھی قدغن لگایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازعہ کا حل بات چیت اور باہمی معاہدے سے ہی ممکن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ چین کشیدگی میں کمی اور صورتحال کے سیاسی حل کی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔ وزیر خارجہ وانگ نے کہا کہ چین امریکہ، نیٹو اور یورپی یونین کو بھی روس کے ساتھ بات چیت میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

چین کے اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ چین امریکہ تعلقات اور یوکرین کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔مسٹر وانگ نے کہا کہ اس وقت چین امریکہ تعلقات کو آگے بڑھنا باقی ہے اور دونوں سربراہان مملکت کے درمیان بات چیت میں اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔

وزیر خارجہ وانگ نے کہا“تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے اور تائیوان کا سوال چین کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے امریکی فریق پر زور دیا کہ وہ ون چائنا اصول کے حقیقی معنی کی طرف لوٹے اور تائیوان کی آزادی کی حوصلہ افزائی کرنا اور حمایت دینا بند کرے۔

چینی وزیر خارجہ نے امریکہ کو ” چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند”کرنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین پر بھی بات چیت کی۔ مسٹر بلنکن نے چینی فریق کو یوکرین کی موجودہ صورتحال پر امریکی خیالات اور موقف سے آگاہ کیا۔

وانگ نے کہا کہ یوکرین کا مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کا تعلق نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں سے ہے بلکہ مختلف فریقوں کے سلامتی کے مفادات سے بھی گہرا تعلق ہے۔

نہوں نے زور دیا کہ نہ صرف موجودہ بحران کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے بلکہ طویل مدت میں خطے کے استحکام کو بھی برقرار رکھا جائے۔وزیر خارجہ وانگ نے کہا“اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر، چین ہمیشہ اپنے موقف اور پالیسی کو معاملے کی خوبیوں کے مطابق بناتا ہے۔

چین کا خیال ہے کہ یوکرین کے بحران کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق نمٹا جانا چاہیے۔ اس قضیہ کے تدارک کیلئے‘اقوام متحدہ کا چارٹر’حل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تمام ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ دوسرا، انہوں نے بات چیت کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔

مسٹر وانگ نے کہا کہ چینی فریق کو امید ہے کہ جنگ جلد از جلد ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی فریق امریکہ، نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) اور یوروپی یونین کو روس کے ساتھ اسی طرح کی بات چیت میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔اس کے علاوہ دونوں ممالک نے جزیرہ کوریا کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button