یوکرین میں شاپنگ سنٹر پرروس کے میزائل حملے‘ 16افراد ہلاک

صدر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پر بھی ایک پوسٹ لگائی ہے جس میں عمارت آگ سے تباہ شدہ دکھائی دے رہی ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روس نے جس جگہ میزائل حملہ کیا ہے وہاں ایک ہزار لوگ موجود تھے۔

یوکرین: وسطی یوکرائن کے شہر میں واقع شاپنگ سینٹر پر روسی میزائل کے حملے میں 16افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سینیئر حکام نے بتایا کہ کریمنکوف نامی شہر میں واقع ایک شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ پورے شاپنگ سینٹر کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت شاپنگ سینٹر میں تقریباً 1000 شہری موجود تھے۔اشیائے خوردونوش کی خریداری کے لیے یہ ایک مصروف مال ہے۔امیر ترین ممالک کے جی سیون گروپ کے رہنماؤں (جن کا اجلاس جرمنی میں منعقد ہو رہا ہے) نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔

روس کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، جس میں کم از کم 59 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔پولٹاوا ریجن کے سربراہ دمیتری لونن نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

صدر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پر بھی ایک پوسٹ لگائی ہے جس میں عمارت آگ سے تباہ شدہ دکھائی دے رہی ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روس نے جس جگہ میزائل حملہ کیا ہے وہاں ایک ہزار لوگ موجود تھے۔یوکرین نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ اج منگل کی شام سات بجے یو این کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلایا جائے۔

تاکہ روس کی طرف سے یوکرین میں شہری مراکز اور شاپنگ مالز پر کئے جانے والے میزائل حملوں کو زیر بحث لایا جا سکے۔یہ درخواست کل پیر کے روز اقوام متحدہ سے کی گئی ہے۔ واضح رہے پیر کے روزروس کی طرف سے یوکرین کے شہر کریمینچک میں ایک شاپنگ سنٹر پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ اسی حملے کو سلامتی کونسل کے مجوزہ اجلاس کی اہم وجہ بتایا گیا ہے۔

یہ بات البانیہ کے سفارتی مشن کے ترجمان نے بتائی ہے۔اس سے قبل اتوار کے روز بھی روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف شہر میں جگہ جگہ میزائیل فائر کیے تھے۔ جن کے نتیجے میں ایک رہائشی عمارت نشانہ بنی تھی۔ انہوں نے مزید لاشوں کے ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی ہے، قریب میں کوئی فوجی ہدف نہیں تھا جس پر روس نشانہ بنا سکتا ہو۔ دوسری جانب فائر فائٹرز اور فوجیوں کو دھات کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا جب وہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے تھے۔علاقائی ریسکیو سروس کے سربراہ نے ٹیلی ویڑن پر کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ملبے کے نیچے کتنے لوگ باقی رہ سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button