’یوکرین میں ہم 5 دن تک تہہ خانے میں بند رہے‘

اکانکشا نے کہا، ’ہم، مختلف مشرقی اور شمالی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 10 ہندوستانی طلبہ اپنے ہاتھوں میں ہندوستانی پرچم تھامے ویران سڑک پر چل پڑے، جسے ہم نے اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے رنگا تھا۔

اگرتلہ: تریپورہ کی ایک ایم بی بی ایس کی طالبہ 50 دیگر افراد کے ساتھ یوکرین میں کرایہ کے مکان کے تہہ خانے میں پانچ دن تک پھنسی رہی، اس کے بعد وہ پولینڈ کے لیے 30 کلومیٹر کے سفر پر روانہ ہوئی جہاں سے اسے ہندوستان لایا گیا ہے۔ روس کے حملے کے بعد سے اب تک یوکرین میں پھنسے تریپورہ کے 27 طلبہ کو ’آپریشن گنگا‘ کے تحت پولینڈ ، رومانیہ اور ہنگری سے نکالا گیا ہے۔

تریپورہ بھون نئی دہلی کے حکام کو غازی آباد، اتر پردیش میں اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ہِنڈن ایئر فورس اسٹیشن پر طلبہ کا استقبال کرنے کے لیے تعینیات کیا گیا ہے۔ یوکرین سے واپس آنے والے زیادہ تر لوگوں کو تریپورہ بھون لایا گیا ہے، جہاں سے انھیں گھر بھیجا جا رہا ہے۔ دہلی تریپورہ بھون کے ایک افسرنے کہا، ’طلبہ نے بغیر کسی نقد اور سامان کے یوکرین کی جغرافیائی سرحد کو عبور کرنے کے لیے طویل مسافت طے کی۔ ان میں سے ہر ایک نے کم از کم چار دن تک تکلیف میں سفر کیا لہذا، ہم انھیں اپنی دو عمارتوں میں لا رہے ہیں اور انھیں ان کے والدین کے پاس واپس بھیجنے سے پہلے ان کی فوری ضروریات کا خیال رکھ رہے ہیں‘۔

یوکرین کے خارکیف میں ایک میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایم بی بی ایس کی طالبہ اکانکشا بَھومک جمعہ کی رات تریپورہ بھون پہنچی۔ اپنے ہولناک تجربے کو شیئر کرتے ہوئے، اکانکشا نے یو این آئی کو بتایا کہ وہ 50 دیگر لوگوں کے ساتھ اپنی کرائے کی عمارت کے تہہ خانے میں پانچ دنوں سے پھنسی ہوئی تھی۔ وہ وہاں سے 30 کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد مغربی یوکرین کے نسبتاً محفوظ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔

اکانکشا نے کہا، ’ہم، مختلف مشرقی اور شمالی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 10 ہندوستانی طلبہ اپنے ہاتھوں میں ہندوستانی پرچم تھامے ویران سڑک پر چل پڑے، جسے ہم نے اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے رنگا تھا۔ وہاں کوئی ٹیکسی نہیں تھی اور ہم راستے میں مٹھی بھر لوگوں سے ملے۔ پولینڈ کی سرحد تک پہنچنے کے لیے دوپہر کے بعد واحد ٹرین پکڑنے کے لیے ہمیں دوڑنا پڑا‘۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے مشرقی یوکرین پر حملہ کرنے سے ایک دن قبل انھیں نقد رقم، پینے کے پانی اور خوراک کا ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ حالات اتنے تباہ کن ہوں گے اور انہوں نے صرف چند چاول اور دالیں اور 20 لیٹر پانی خریدا۔ روس نے یہ بھی کہا کہ وہ شہریوں پر حملہ نہیں کرے گا یا انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔

اکانکشا نے کہا، ’ہم نے سوچا تھا کہ دو تین دن میں حالات معمول پر آجائیں گے اور اگر جنگ جاری رہی تو یہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ہوگی۔ لیکن ایک دن کے اندر ہی روس نے شہری عمارتوں اور کالونیوں، ریلوے ٹریک پر بمباری کی، فائرنگ شروع کر دی اور میزائلوں کا استعمال کیا‘۔

طالبہ نے کہا کہ صورتحال جلد ہی ہاتھ سے نکل گئی اور ان کا ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ یوکرین کے شہری بھی پناہ لینے کے لیے پولینڈ گئے لیکن ٹیلی فون نیٹ ورک کی وجہ سے غیر ملکی طلبہ تنہا پڑ گئےتھے۔

آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے اکانکشا نے کہا، ’مجھے یہ سوچ کر تکلیف میں ہوں کہ شاید ہم اتنے خوبصورت ملک میں واپس نہیں جا پائیں گے۔ شاید ہمیں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک جانا پڑے۔ یوکرین بطور ملک، اس کے شہر، اس کی سڑکیں، اس کے لوگ، اس کے کالج، کورسز اور کمپنیاں خوش کن ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button