یوکرین نے جنگ بندی کی روسی پیشکش مسترد کردی

یوکرین نے روس کی جانب سے چند شہروں سے لوگوں کو بیلاروس اور روس جانے دینے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

کیف: یوکرین نے روس کی جانب سے چند شہروں سے لوگوں کو بیلاروس اور روس جانے دینے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

روس نے چند گھنٹے قبل یوکرین کے چند شہروں سے لوگوں کے انخلا کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور کوریڈور کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ جن کے راستے لوگ بیلاروس اور روس جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق یوکرین کی نائب وزیراعظم ارینا ویریشچکوف کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک قابل قبول آپشن نہیں ہے۔قبل ازیں روسی وزارت دفاع کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ شہریوں کے انخلا کے لیے جنگ بندی کا فیصلہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں کی خصوصی درخواست پر کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ماریوپول اور سمی سے کوریڈور کھولے جا رہے ہیں۔روس کی نیوز ایجنسی آر آئی اے کی جانب سے شائع کیے جانے والے نقشے میں دکھایا گیا کہ کیئف سے بیلاروس جانے والا کوریڈور کھولا جائے گا جبکہ خرکیف سے جانے والوں کو روس کی طرف جانے والا کوریڈور مہیا ہو گا۔

اسی طرح ماریوپول اور سمی سے شہری ملک کے دوسرے شہروں اور روس کی طرف جا سکیں گے۔وزرات کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ جو لوگ کیئف چھوڑنا چاہتے ہیں وہ بھی روس کی طرف جا سکیں گے۔’انخلا کے عمل کو ڈرونز کی مدد سے مانیٹر کیا جائے گا۔‘

قبل ازیں اتوار اور پیر کی درمیان رات اور صبح کے وقت بھی لڑائی جاری رہی، جس کے باعث یوکرین کے شہر ماریوپول میں 20 ہزار شہری محصور ہو گئے تھے اور روسی صدر نے کہا تھا کہ کیئف کے ہتھیار ڈالنے تک جنگ جاری رہے گی۔

دوسری جانب یوکرین اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی حملہ روکنے کے لیے ہنگامی فیصلہ جاری کرے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ساحلی شہر ماریوپول کے زیادہ تر لوگ زیرزمین مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہر میں بمباری کے باعث پانی اور بجلی بھی منقطع ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ماسکو کی جانب سے 24 فروری کو کیے جانے والے حملے کے بعد سے 364 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 20 سے زائد بچے بھی شامل ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں بمباری کے باعث ہوئی ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button