آر ایس ایس کے بانی کا سبق نہیں ہٹایا جائے گا: بومئی کی وضاحت

بومئی نے کہا کہ نصاب کا جائزہ پابندی سے کیا جاتا ہے تا کہ یہ پتا لگایا جاسکے کہ آیا بچوں کے لیے تجویز کردہ کنڑ اور سوشل سائنس کتابوں میں کوئی قابل اعتراض مواد تو شامل نہیں ہے۔

بنگلورو: ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کرناٹک حکومت نے ادیب روہت چکراتیرتھ زیرقیادت نصاب جائزہ کمیٹی کو تحلیل کردیا۔ اسکولی نصاب کو زعفرانے اور کرناٹک کی عظیم شخصیات کی توہین کے الزامات کے ساتھ کمیٹی شدید تنقیدوں میں گھرنے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔

مذہبی رہنماؤں نے چیف منسٹر بسواراج بومئی کو مکتوبات تحریر کرکے غلطیوں کی اصلاح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو انتباہ دیا کہ وہ عوام کے جذبات سے کھلواڑ نہ کریں۔ جمعہ کی رات اپنے بیان میں چیف منسٹر نے کہا کہ نظرثانی کا عمل مکمل ہونے کے بعد کمیٹی کو تحلیل کردیا گیا۔

 انہوں نے تیقن دیا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نصاب میں مزید اصلاحات کے لیے کھلا ذہن رکھتی ہے۔ بومئی نے کہا کہ نصاب کا جائزہ پابندی سے کیا جاتا ہے تا کہ یہ پتا لگایا جاسکے کہ آیا بچوں کے لیے تجویز کردہ کنڑ اور سوشل سائنس کتابوں میں کوئی قابل اعتراض مواد تو شامل نہیں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پنڈت آرادھیا سوامی جی اور دیگر رہنماؤں نے نصاب میں بسوانا سے متعلق مواد پر اعتراض کیا۔ پروفیسر باراگو رامچندرپا کی زیرقیادت سابق جائزہ کمیٹی سے تقابل کیا جائے تو بسوانا سے متعلق مواد وہی ہے۔ تاہم بسوانا پر مواد پر اس طرح نظرثانی کی جائے گی کہ اس سے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔

سائبر جرائم پولیس کو نرمل آنندناتھ سوامی جی اور دیگر رہنماؤں کی خواہش پر ریاستی ترانہ کو بگاڑنے والے افراد کے خلاف تحقیقات کرنے اور قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بومئی نے پھر کہا کہ نصاب سے کسی بھی عظیم شخصیت کا سبق نہیں ہٹایا گیا جیسا کہ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے نصاب میں اسلام اور عیسائیت کے ساتھ ہندو مت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ دریں اثناء بومئی نے وضاحت کی کہ نصابی کتب سے آر ایس ایس کے بانی کے بی ہیڈگیوار کا سبق نہیں ہٹایا جائے گا اور سوال کیا کہ ”اس میں غلط کیا ہے؟

“ ہیریور تعلقہ کے دیورکوٹہ موضع میں میڈیا نمائندوں سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نصابی کمیٹی تحلیل ہوئی ہے، ختم نہیں کی گئی۔ اب نئی کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔“ بومئی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت 12ویں صدی کے سماجی مصلح بسوانا کے اصولوں کے راستے پر چل رہی ہے۔ نصابی کتاب میں کئی وچن ہیں۔ جو عنقریب طلباء کو دیے جائیں گے۔“

تبصرہ کریں

Back to top button