احمدآباد کی عدالت کا فیصلہ‘ سیاسی محرکہ۔ ہم ہائیکورٹ جائیں گے، خاطیوں کے رشتہ داروں کا فیصلہ

ارکان خاندان کا الزام ہے کہ بی جے پی نے یو پی اسمبلی الیکشن میں مذہبی صف بندی کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عدالت کا فیصلہ ایسے وقت کیوں آیا جبکہ یوپی میں اسمبلی الیکشن جاری ہے۔

اعظم گڑھ: احمدآباد سلسلہ وار دبم دھماکے کیس (2008) میں جن خاطیو ں کو سزا سنائی گئی ان میں 2 کے رشتہ داروں نے عدالت کے فیصلہ کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ سیاسی محرکہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔ جمعہ کے دن خصوصی عدالت نے 38  افراد کو سزائے موت اور دیگر 11 کو عمرقید سنائی تھی۔ سزائے موت پانے والوں میں اعظم گڑھ کے 5  افراد شامل ہیں جبکہ اعظم گڑھ کے ایک شخص کو عمر قید ہوئی ہے۔ ان میں 2 سنجر پور سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ایک کا تعلق موضع بیناپارا سے ہے۔

ارکان خاندان کا الزام ہے کہ بی جے پی نے یو پی اسمبلی الیکشن میں مذہبی صف بندی کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عدالت کا فیصلہ ایسے وقت کیوں آیا جبکہ یوپی میں اسمبلی الیکشن جاری ہے۔ شاداب احمد نے جن کے لڑکے محمد سعید کو سزائے موت سنائی گئی‘ ہفتہ کے دن پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں اور اس کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔

عدالت نے گزشتہ برس 3 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا لیکن 5 ماہ بعد اسمبلی الیکشن کے دوران فیصلہ سنادینے سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ شاداب احمد نے جو سماج وادی پارٹی ورکر ہیں‘ کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یوپی میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے فیصلہ سنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ موقع کا فائدہ اٹھارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایک سزایافتہ کا باپ سماج وادی پارٹی کے لئے ووٹ مانگ رہا ہے۔ اس سے یوگی کی نیت کا واضح اشارہ ملتا ہے۔

 امیر حمزہ نے جن کے بھائی عارف کو سزائے موت سنائی گئی‘ کہا کہ سارا معاملہ سیاسی ہے‘ ہم ہائی کورٹ جائیں گے۔ دیگر خاطیوں کے ارکان خاندان نے اس مسئلہ پر کچھ بھی بولنے سے انکار کردیا لیکن مقامی لوگوں کا احساس ہے کہ فیصلہ کی ٹائمنگ کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔ بے قصور مسلمانوں کے کاز کے لئے لڑنے والے رہائی منچ کے جنرل سکریٹری راجیو یادو نے کہا کہ اس فیصلہ کے ذریعہ اعظم گڑھ اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کیسس میں سزا پانے والے مسلمانوں کی تعداد‘ بری ہونے والوں سے بہت کم ہے لیکن یہ نام نہاد سیکولر سیاست کی ناکامی ہے کہ اس مثبت پہلو کو اجاگر نہیں کیا جارہا ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل کے سربراہ عامر رشادی نے کہا کہ بی جے پی پھر ایک بار مذہبی صف بندی کے اپنے پرانے ایجنڈہ پر لوٹ آئی ہے۔ وہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو بے عزت کررہی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button