ارکان کی معطلی کیخلاف بی جے پی کا احتجاج۔ کچھ دیر کیلئے صورتحال کشیدہ

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی سے بی جے پی کے تین ارکان کو معطل کئے جانے کے خلاف شہر حیدرآباد کے یوسف گوڑہ میں زعفرانی جماعت کے لیڈروں اور کارکنوں کے احتجاج کے موقع پر صورتحال کچھ دیر کیلئے کشیدہ ہوگئی۔ان احتجاجی لیڈروں اور کارکنوں نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راو کے پتلے کوسڑک پر نذرآتش کرنے کی کوشش کی جس کی مخالفت حکمران جماعت ٹی آرایس کے مقامی لیڈروں اور کارکنوں نے کی۔

اس موقع پر دونوں جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنوں میں بحث وتکرار ہوگئی۔ دونوں گروپس نے ایک دوسرے پر حملہ کیا۔اطلاع کے ساتھ ہی پولیس کی بھاری جمعیت وہاں پہنچ گئی جس نے ان دونوں جماعتوں کے احتجاجیوں کے جذبات کو سرد کرنے کی کوشش کی تاہم صورتحال کو بے قابوہوتا دیکھ کر پولیس نے احتجاجیوں کو حراست میں لے لیاکیونکہ بی جے پی کے احتجاجیوں نے سڑک پر بیٹھ کردھرنا دینا شروع کردیا اور حکومت کے خلاف برہمی کااظہار کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔

اس احتجاج کے نتیجہ میں یوسف گوڑہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانہ پر ٹریفک جام ہوگئی اور گاڑی سواروں کو مشکل صورتحال کاسامنا کرناپڑا۔اس موقع پر بی جے پی کی خواتین لیڈروں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس کے رویہ کی مذمت کی۔

انہوں نے کہاکہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا ہے۔یوم خواتین کے موقع پر پولیس نے خواتین پر لاٹھی چارج کیا ہے جو بالکل نامناسب ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی آرایس کے کارکنوں اور لیڈروں نے ہسٹری شیٹرس کی طرح رویہ اختیا رکیا ہے۔

Back to top button