اسرائیل کے 1000 فلسطینیوں کو آئی ڈی کارڈس منظور

یہ اقدام فلسطین اور اسرائیل کے درمیان 30 اگست 2021 کو سمجھوتے کی روشنی میں عمل میں آیا ہے جس سے مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے لئے خاندانوں کے دوبارہ متحد ہوجانے کی اجازت دینے درخواستوں کے کام کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

رملہ: اسرائیلی عہدیداروں نے مغربی کنارے پر مقیم 1000 فلسطینیوں کو شناختی کارڈس جاری کردئیے ہیں۔ جبکہ وہ ملک بدر ہونے کے خوف کے برخلاف وہیں سکونت اختیار کرسکتے ہیں۔

ژنہوا نیوز ایجنسی نے فلسطینی وزیر شہری امور حسین الشیخ کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام فلسطین اور اسرائیل کے درمیان 30 اگست 2021 کو سمجھوتے کی روشنی میں عمل میں آیا ہے جس سے مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے لئے خاندانوں کے دوبارہ متحد ہوجانے کی اجازت دینے درخواستوں کے کام کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

وزیر نے بتایا کہ ان کے دفترکے ذریعہ اسرائیل نے شہریت کے لئے درخواستوں کو منظوری دے دی ہے اور دیگر ہزاروں نام اب اسرائیل کو روانہ کئے جارہے ہیں۔

ان درخواستوں میں شناختی کارڈ اور مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے درمیان پتہ کی تبدیلی کی درخواستیں شامل ہیں۔

اسرائیلی مقبوضہ اور مغربی کنارہ اور یروشلم جن پر فلسطینیوں کا دعویٰ ہے اسرائیل نے ان علاقوں پر 1967 مشرقی وسطیٰ جنگ میں قبضہ کرتے ہوئے اس وقت سے وہاں کنٹرول برقرار رکھا ہے۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل کو فلَََسطینی آئی ڈی کارڈس اور پاسپورٹ جاری کرنے کا پورا اختیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے 2009 سے فلسطین خاندانوں کے دوبارہ اتحاد کی درخواستوں کی کارروائی کو روک دیا تھا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button