اسکولوں میں معصوم بچوں کے قتل عام کاذمہ دار کون؟

صوفی انیس دُرّانی

دنیا کی تاریخ کااگرگہرائی سے مطالعہ کیا جائے توہر عہد ہردور میں ایک قدرمشترک نظرآتی ہے وہ قدر مشترک یہ ہے کہ بڑی سے بڑی طاقتورترین سلطنتیں ان کے حکمرانوں کی انانیت اور ان کے ظلم کے سبب ہی اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہیں اور خود حکمراں کو بھی ا س طرح کے مظالم اور تشددکا شکار ہونا پڑتاہے جو یہ اپنی رعیت کے ساتھ روارکھتے تھے۔ خواہ شاہانہ نظام ہو یا آمریت ہو یا فوجی راج جو عدل کو چھوڑکر اپنی سیاسی قوت کے بل بوتے پر سماج کے کسی حصے کو ختم کرنا چاہتے ہیں خودان کا خاتمہ ہوکر رہتاہے۔ شمال سے جنوب تک مشرق سے مغرب تک ا س کلیہ کی واضح مثالیں مل جائیں گی۔
دنیا کا خود ساختہ مائی باپ امریکہ ان دنوں اسی صورت حال کا شکار ہے۔ وہ ایک ایسے شکست وریخت کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روزانہ اسے چند قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ جمہوریت اور آزاد خیالی کا پرچم اٹھاکر دنیا بھر میں فتنہ وفساد کی آگ بھڑکانے والے امریکہ کے نہ توداخلی معاملات درست ہیں اور نہ خارجی امور میں اس کی اس انداز میں حکمرانی چل رہی ہے جیسے چند سال پہلے تک تھی۔ چین نے امریکی معیشت کو پچھاڑ کر دنیا کی معاشی صورت حال میں کافی حد تک سبقت حاصل کرلی ہے۔امریکہ کو روزانہ مجبوراً ایک دوقدم پیچھے کھسکنا پڑتاہے۔
اس نوعیت کا معاشی انحطاط ایک دن یاایک ہفتے میں نہیں ہوجاتا بلکہ دراصل جابروظالم حاکم اپنے غلط کاموں پر مصر رہتے ہیں اور سماج ومعیشت کو پہنچنے والے ابتدائی نقصانات کا یا توادراک نہیں کرتے یاپھراس خرابی کو ایک عارضی اور وقتی تبدیلی سمجھ کر اس بھرم کا شکار ہوجاتے ہیں کہ جلد ہی دوبارہ صورتحال ان کی مرضی اور منشاکے مطابق ہوجائے گی۔ وہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیتے اورآہستہ آہستہ تاریخ اپنے عمل کو دہرانے کی طرف زیادہ تیزی کے ساتھ گامزن ہوجاتی ہے۔ امریکہ کے زوال کے بیچ اس وقت بوئے گئے تھے جب ایک چھوٹے سے ملک ویت نام نے جس کے پا س نہ پورے ہتھیارتھے اور بہت محدود وسائل ہونے کے باوجود امریکی فوجیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیاتھا۔ امریکہ جواس وقت نمبرون کی سپرپاور تھا، ا س کے منھ پر اس طرح کالک لگائی کہ کئی سال تک امریکہ عالمی سطح کی داداگیری کرنا بھول گیا تھا۔ امریکی عوام بھی سینہ چوڑاکرکے دنیا بھر میں گھومنے سے کترانے لگے۔ امریکہ کو اس صدمے سے نکلنے میں کئی سال لگ گئے تھے حالانکہ امریکی قوم بنیادی طورپر مغرور قوم ہے جس کی تشکیل میں یوروپ سے مختلف جرائم کی سزا بھگتنے والے مجرموں کا بہت بڑاہاتھ ہے۔ یوروپ کی حکومتیں عادی مجرموں کو جیل سے نکال کرجہازوں میں بھرکرامریکہ بھیج دیا کرتی تھیںتاکہ ان سے نجات مل سکے۔ یہ اسی ورثہ کا نتیجہ ہے کہ امریکی مزاج میں ٹیڑھا پن فطری طورپر پایا جاتاہے۔ بہت سے یوروپی ممالک کے متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے کاشتکار اور دوسرے پیشوں سے وابستہ افراد بھی امریکہ کی سرزمین پرآکر بسے۔انھوں نے غریبی سے نکلنے کے لیے بڑی محنت کی، بڑے سخت حالات کاسامناکیا۔ان میں سے بیشتر کامیاب بھی ہوئے جو زمین جوتنے لگتاتھازرخیز زمین ا س کی ہوجاتی تھی اپنی محنت سے کامیابی حاصل کرنے والے جب دولت میں کھیلنے لگے توان میں بھی غرور آگیا، مجموعی طورپر ساری امریکی قوم ایک احساس برتری کا شکار ہے، وہ دنیا بھر کی حکومتوں کو ذہنی طورپر پسماندہ اور اپنی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں اور ان پر اپنا حکم چلانا چاہتے ہیں، لیکن ان کی بدنصیبی سے انھوں نے مسلمانوں کے خلاف بھی اس روےے کواپنایا، انھوں نے افغانستان کے مجاہدین کے ہاتھوں دوسرے سپرپاور روس کا انجام بہت جلد ہی بھلادیا اورجن طلبا کو انھوں نے روسیوں سے لڑنے کے لیے ہتھیار دیے تھے اور انھوں نے روسیوں سے لڑنے کے لیے ہتھیاراٹھالیے تھے، ان کو اپنی کٹھ پتلی بنانا چاہا۔انھوں نے پہلے توافغانستان میں اپنی مختلف ذیلی قومیت کے گروپوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیا ، لیکن امریکہ کی یہ چال بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ اور مزیدامریکی فوجیوں کو ہلاکت سے بچانے کے لیے امریکہ اعلان شدہ تاریخ سے پہلے ہی افغانستان کو راتوں رات اس کے حال پرچھوڑ کر بھاگ نکلا۔حتیٰ کہ اس نے لاکھوں ڈالرخرچ کرکے ان کو کٹھ پتلی حکمراں بنایا تھا۔ وہ سب بھی حیران رہ گئے اوراپنی جان بچانے کے لیے افغانستان سے باہر چلے گئے۔ افغانستان سے فرار میں امریکہ کی ایسی بھٹ اڑوائی کہ اب اس کے حریف بھی اس پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ حالیہ یوکرین تنازع بھی امریکہ کی ناکامی کا ایک واضح نشان ہے۔ یوکرین کو امریکہ نے یقین دلایا تھا کہ یورپین یونین کی ممبرشپ کے لیے درخواست دو، ہم اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرکے تم کو ممبر بنوادیں گے۔ اگرروس اس کی مخالفت کرتاہے تونہ صرف ہم بلکہ ناٹو کے تمام یورپین ممالک تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے اور تمہاری ہرطرح مددکریں گے۔ یوکرین امریکہ کے جھانسے میں آگیا اور اس نے اس بات پر غورنہیں کیا کہ روس اپنی حفاظت کے لیے یوکرین پر بھی قبضہ کرسکتاہے اورپھر وہی ہوا جس کے سبب اب یورپین ممالک امریکہ پربھروسہ نہیں کرتے۔ یورپی یونین نے یوکرین کی درخواست کو التوامیں ڈال دیا۔ زیادہ ترممبرممالک نے لفاظی سے کام لیااور زیادہ توجہ نہیں دی۔ امریکہ نے ضرور تھوڑی بہت مالی مدد کی، کچھ ہتھیار بھی دیے،لیکن روس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی دھمکی بھی دے دی اور پوری طرح مستعدی کے ساتھ عالمی رائے عامہ کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی اینٹ سے اینٹ بجانے لگا۔ اس سارے معاملے سے امریکہ کی شاخت اور بھی زیادہ متاثرہوگئی ہے اور خود امریکی شہریوں کی ذہنی کیفیت مختلف اقسام کی نفسیاتی بیماریوں کی شکار ہوگئی ہے، کیوں کہ جب معاشرے کی قیادت کرنے والے نفسیاتی مریض ہوں تو پھر پورا معاشرہ بھی متاثرہوجاتاہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہوتی ہے کہ نئی نسل کی نشوونما ایسے ماحول میں ہوتی ہے کہ آواکاآوا ہی بگاڑ کی طرف گامزن ہوجاتاہے۔
امریکہ کے اسکولوں میںآئے دن ہونے والے قتل وغارت گری کے واقعات کو اسی تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ دنیا کاواحد ملک ہے جہاں طالب علم اپنے ساتھ تعلیم پانے والوں اوراسکول کے اسٹاف اوراساتذہ وغیرہ کوگولیوں سے بھون ڈالتے ہیں۔جس کا جی چاہتا ہے کسی بھی اسلحہ کی دکان سے آٹومیٹک ہتھیار خرید کر اپنے اسکول میں گھس جاتاہے اور اندھادھند فائرنگ کرکے دس پندرہ بچوں کو قتل کردیتاہے۔ کوئی ایسی معقول وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے (حالانکہ وہاں سیکڑوں ایسے شرمناک اور انسانیت سوز واقعات ہوچکے ہیں)جس کے سبب ملزم لڑکے کو اتنا مستعد ہوجانے پر مجبور ہوناپڑے کہ وہ تابڑ توڑفائرنگ کرکے اپنے ہم جماعتوں اور لڑکیوں کا قتل عام کردے۔ تازہ ترین واقعہ امریکہ کی مشہور ریاست ٹیکساس میں ہواہے جہاں گزشتہ ہفتہ روب الیمنٹری اسکول کے ایک اٹھارہ سال طالب علم نے اسکول میں گھس کر چوتھی کلاس میں موجود بچوں کو اپنی آٹومیٹک رائفل سے مارناشروع کردیا۔اس بہیمانہ قتل عام سے پہلے اس نے کلاس روم کے سب دروازے اندر سے بند کرلیے۔ کلاس میں دو استانیاں بھی موجودتھیں۔انھوں نے اپنے طورپر قاتل طالب علم سلواڈورکوٹھنڈاکرنے کی کوشش کی ،لیکن اس پر اس قدر جنون طاری تھا کہ اس نے دونوں استانیوں کو بھی گولی مارکرہلاک کردیا۔ کلاس میں انیس معصوم بچے ہلاک ہوگئے اوربہت سے زخمی ہوگئے۔ سڑے امریکی سماج کے اس جنونی قاتل نے اسکول کارخ کرنے سے قبل اپنے گھرمیں اپنی سگی دادی کو بھی گولی ماردی تھی، لیکن بڑی بی کی زندگی باقی تھی تووہ زخمی ہوکر گرپڑیں اور سلواڈورکے گھرسے نکلتے ہی انھوں نے پولیس کو فون کردیا ، لیکن ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے کہ دادی کوکیوں گولی ماری ؟وہ ان مادرپدر آزاد ماں باپ کی باقیات ہے اور دادا دادی کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ گزشتہ ہفتے ہی وہ اٹھارہ سال کاہوگیاتھا اوربالغ امریکی بن گیا تھا۔ اس نے سب سے پہلے ہتھیار کی دکان پر جاکردوآٹومیٹک رائفلیں خریدیں جوعام طورپر فوج کے کام آتی ہیں۔ بہت سے اسکولوں میں اس دیوانگی کے سبب مرنے والے بچوں اور قاتل کاتجزیہ کرکے قانون بنا تھا کہ نابالغ بچوں کو اسلحہ فروخت نہ کیا جائے۔ امریکہ میں اسلحہ خریدنے کے لیے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی بھی بالغ امریکی جوتوں اورپتلونوں کی طرح اسٹور جاکر اسلحہ خرید سکتاہے۔ صرف اس کا نام پتہ رجسٹر میں درج کرلیا جاتا ہے۔ گزشتہ ۲۰سال میں جنرل اسٹوروں ،گرجا گھروں، اسکولوں ،کالجوں اور ایسے عوامی مقامات پر ذہنی مریض اس طرح کی کئی ہزار وارداتیں کرچکے ہیں۔ اسکول کالج کے طلباءکی قتل کی سب سے بڑی واردات دسمبر ۲۰۱۲ میں ہوئی تھی۔ اس میںایک ۱۹سالہ نوجوان نے آٹومیٹک رائفل سے ۲۰بچوں اور چھ استادوں کوقتل کردیا تھا ۔
آپ کو اس بات سے حیرانی ہورہی ہوگی کہ آخر کیاوجہ ہے کہ آسانی سے اسلحہ خریدنے اوربیچنے پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ ۲۰۲۲ ءمیں اب تک ۲۷اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ مزید دوسوکے آس پاس وارادتیں بھی ہوئی ہیں۔۲۰۲۱ ءمیں یعنی گزشتہ سال امریکی ایجنسی ایس بی آئی کے مطابق ۶۳ وارداتیں ہوئیں تھیں ۔جن میں ایک سوتین افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑاتھا۔ اورایک سوتیس زخمی ہوئے تھے۔ ۲۰۱۷ میں ہوئی ایک واردات میں ایک سوتینتالیس افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ سوئٹزرلینڈ کے سروے کے مطابق امریکہ میں روزانہ ۵۳افراد آتشی ہتھیاروں کاشکار ہوکر اپنی جان گنواچکے ہیں۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اس تازہ ترین واردات پر ایک بیان میں اتنا کہاکہ ان واقعات کے سبب میں خودکوبیمار اور تھکا ہوامحسوس کررہاہوں۔ انہوں نے اپنے سات منٹ کے بیان میں ان ہتھیار بنانے والی امریکی کمپنیوں پر سخت الزام عائد کیے۔ امریکی کانگریس اور امریکی سینیٹ کے ممبران سے اپیل کی کہ وہ ان کمپنیوں کے خلاف ایک واضح موقف لیں،لیکن انھوں نے اپنی سیاسی مصلحتوں کے سبب سینیٹ کے ان ممبران کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا جوہتھیاروں پرپابندی نہیں لگانے دیتے اور ایسے ہربل کو نامنظور کردیتے ہیں۔
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ کی اکثریت ہے۔ وہاں سے آسانی سے ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر پابندی لگانے والابل پاس ہوجاتاہے،لیکن یہ قانون تب تک نہیں بن سکتاجب تک سینیٹ اسے منظورنہ کرے۔امریکی سینیٹ میں قدامت پسند ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ وہاں جاکر بل نامنظور ہوجاتاہے۔ امریکہ میں ہتھیاروں کی تجارت کو کنٹرول کرنے کی تمام کوششیں رائیگاں گئی ہیں،کیوں کہ ہتھیار ساز کمپنیوں کی لابی بہت مضبوط ہے اور وہ خاص طورپر امریکی سینیٹ پربہت دباو¿ رکھتے ہیں۔ جس سے ظاہرہوتاہے کہ بنیادی طورپر امریکی سیاستداں ہی معصوم بچوں کے خون کے ذمہ دارہیں۔جس رخ پر امریکی معاشرہ آگے بڑھ رہاہے، اس کا انجام اس سے بھی بھیانک نکلے گا۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button