اسکول پر روسی بمباری، 400افراد کا حشر نامعلوم

محصور یوکرینی بندرگاہی شہر ماریوپول کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے ایک آرٹ اسکول پر بمباری کی ہے جہاں تقریباً400افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

لیویف: محصور یوکرینی بندرگاہی شہر ماریوپول کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے ایک آرٹ اسکول پر بمباری کی ہے جہاں تقریباً400افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت تباہ ہوگئی اور لوگ ملبہ کے اندر دبے ہوسکتے ہیں۔ لوگوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی فوری کوئی اطلاع نہیں۔

روسی فوج نے چہارشنبہ کے دن ماریوپول میں ایک تھیٹر پر بمباری کی تھی جہاں شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ حکام نے کہاتھا کہ انہوں نے 130افراد کوبچالیا لیکن مزید کئی افراد ملبہ میں دبے ہوسکتے ہیں۔

ماریوپول دفاعی نقطہ نظر سے اہم بندرگاہی شہر ہے۔ روسی فوج نے اس کا محاصرہ کرلیا ہے۔ اس نے اس شہر کو توانائی‘غذائی اشیاء اورپانی کی سربراہی کاٹ دی ہے۔

اس نے مسلسل بمباری جاری رکھی ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ ماریوپول کا محاصرہ تاریخ میں روسی فوج کے جنگی جرائم کے طور پر درج ہوگا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ محاصرہ کی وجہ سے غذا، پانی اور توانائی کی سپلائی نہیں رہی۔

کم ازکم 2300افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بعض کی اجتماعی تدفین عمل میں آئی۔ روسی فورسیس نے شہر کو گھیر لیا ہے۔ زبردست لڑائی کی وجہ سے بڑا اسٹیل پلانٹ بند ہوچکا ہے۔

مقامی حکام نے ہفتہ کے دن مغرب سے مزید مدد مانگی۔ ماریوپول کے ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ بچے‘بوڑھے مر رہے ہیں۔شہر تباہ ہوچکا ہے اور یہ مٹ چکا ہے۔ اس نے ملبہ زدہ گلی سے ایک ویڈیو میں مغربی قائدین سے یہ بات کہی۔

تبصرہ کریں

Back to top button