افغانستان میں اندرون 3 دن نئی حکومت کا اعلان متوقع

ملا ہبت اللہ اخوندزادہ‘ صوبہ قندھار سے افغان دارالحکومت آئے ہیں۔ قندھار میں انہوں نے قبائلی سرداروں سے سلسلہ وار بات چیت کی تھی۔ نئی حکومت کے اعلان کی قطعی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

کابل / نئی دہلی: طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ کابل میں نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت مکمل ہوگئی ہے اور نئی حکومت کا اعلان جلد ہوجائے گا۔ اسلامی امارت افغانستان کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسلامی امارت کے امیر مُلّا ہِبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں مذاکرات پیر کے دن اختتام کو پہنچے۔ خامہ نیوز نے یہ اطلاع دی۔

ملا ہبت اللہ اخوندزادہ‘ صوبہ قندھار سے افغان دارالحکومت آئے ہیں۔ قندھار میں انہوں نے قبائلی سرداروں سے سلسلہ وار بات چیت کی تھی۔ نئی حکومت کے اعلان کی قطعی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے حالانکہ کارگزار وزیر اطلاعات وثقافت اور طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کہہ چکے ہیں کہ نئی حکومت کا اعلان 2 ہفتوں میں ہونے والا ہے۔

وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پچھلی حکومتوں کے افراد نئی حکومت کا حصہ نہیں ہوں گے کیونکہ یہ لوگ ناکام ہوچکے ہیں اور عوام انہیں اب اقتدار میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ اسی دوران دوحہ(قطر) میں طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس استنک زئی‘ خطہ کے ممالک کے نمائندوں سے بات چیت مصروف ہیں۔

سیاسی دفتر کے ترجمان نعیم وردک نے کہا کہ شیر محمد عباس استنک زئی‘ خطہ کے ممالک کویہ تیقن دینے کے لئے بات چیت کررہے ہیں کہ انہیں افغانستان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے نائب اور مذاکراتی ٹیم کے رکن شیر محمد عباس استانک زئی نے کہا ہے کہ نئی حکومت کا اعلان تین دنوں تک ہو جائے گا۔

بی بی سی پشتو ریڈیو کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس نئی حکومت میں گزشتہ 20 برس میں حکومت میں رہنے والے افراد شامل نہیں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارت ایک ایسی حکومت بنائے جس کو افغانستان کے اندر اور باہر حمایت حاصل ہو۔ یہ ایک انکلسیو حکومت ہوگی اور افغانستان کے تمام اقوام کی نمائندہ ہوگی۔ وہ چہرے جو گزشتہ 20 برس میں کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں رہے ہیں وہ ہماری حکومت میں نہیں ہوں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button