افغانستان کے کئی صوبوں میں پاکستانی کرنسی کا چلن

پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں افغانی کرنسی پر پاکستانی روپیہ کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ انہیں پاکستانی روپیہ کو افغانی کرنسی میں تبدیل کرنے میں 10 فیصد کا نقصان ہوتا ہے۔

کابل: افغانستان کا بینکنگ شعبہ ڈھیر ہوچکا ہے۔ طالبان نے زرمبادلہ سسٹم پر تحدیدات عائد کررکھی ہیں‘ ایسے میں مقامی تاجر ملک کے کئی صوبوں میں ادائیگی کے لئے اب پاکستانی روپے کا استعمال کررہے ہیں۔ ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ امریکی ڈالر اور افغان کرنسی کی شرحوں میں آئے دن کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر کوئی یہاں پاکستانی روپے استعمال کررہا ہے۔

 گزشتہ ایک ماہ سے افغان تاجر‘ پاکستانی روپیہ استعمال کررہے ہیں تاہم طالبان حکومت کی پابندیوں کے خوف سے پاکستانی روپیہ کھلے عام قبول نہیں کیا جارہا ہے۔ طالبان حکومت نے ملک میں تمام معاملات کے لئے افغانی کرنسی کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ ایک اور تاجر نے کہا کہ افغانستان میں چھوٹے تاجر اور مقامی لوگ روزمرہ معاملتوں اور غذائی اشیاء کی خریداری کے لئے پاکستانی روپیہ استعمال کررہے ہیں۔

پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں افغانی کرنسی پر پاکستانی روپیہ کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ انہیں پاکستانی روپیہ کو افغانی کرنسی میں تبدیل کرنے میں 10 فیصد کا نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان کی پچھلی حکومتوں میں پاکستانی روپیہ کا استعمال بڑی حد تک گھٹ گیا تھا کیونکہ سابقہ حکومتیں اس کی مخالف تھیں تاہم طالبان کے اقتدار میں افغان کرنسی کی قدر گھٹنے سے پاکستانی روپیہ تجارت کے لئے تیزی سے پرائم کرنسی بنتا جارہا ہے۔

پاکستان افغان سرحد پر تجارت کرنے والے کاروباری حضرات خاص طورپر اسے استعمال کررہے ہیں۔ ایک تاجر حمید خان نے کہا کہ ہمیں پاکستان سے مال منگوانے کے لئے پاکستانی روپیہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پاکستانی اور افغانی دونوں تاجر اسے ترجیح دے رہے ہیں۔

 افغانستان کی صورتِ حال غیریقینی ہے۔ طالبان حکومت اپنے بینکنگ شعبہ کو بحال کرنے کے لئے کڑی محنت کررہی ہے۔ حمید خان نے کہا کہ حکومت افغانستان تاجروں اور عوام کے لئے بینکنگ سسٹم کو پھر سے فعال کرنے میں ناکام رہی تو نہ صرف پاکستانی روپیہ کا استعمال بڑھے گا بلکہ اس سے مال باہر سے منگوانے کی تاجروں کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button