اقوام عالم کے حالات کی جان کاری شوق سعودی شہری کا 25 ملکوں کا سفر

فوٹوگرافر ہشام الحمید نے نہ صرف ملکوں اور شہروں کے سفرکیے بلکہ ان سفری حالات قیمتی فوٹو گرافی کی شکل میں دستاویزی شکل دے کر اقوام عالم کے حالات کو تصاویر کی شکل میں زندہ رکھا۔

سعودی عرب کے ایک سیاح اور فوٹو گرافی کے شوقین شہری ھشام الحمید نے10 برسوں میں دنیا کے 25 ممالک کا سفر کیا اور ان ملکوں میں بسنے والی اقوام ، ان کی تہذیبی روایات، اقدار اور ان کے حالات کو فوٹوگرافی کی شکل میں محفوظ کیا۔

الحمید نے گائے کے تحفظ کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جس پر اسے ’تحفظ گائے‘ کے بین الاقوامی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔

فوٹوگرافر ہشام الحمید نے نہ صرف ملکوں اور شہروں کے سفرکیے بلکہ ان سفری حالات قیمتی فوٹو گرافی کی شکل میں دستاویزی شکل دے کر اقوام عالم کے حالات کو تصاویر کی شکل میں زندہ رکھا۔

ھشام اکیلا نہیں بلکہ اس نے فوٹو گرافی کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے رکھی ہے جس کی قیادت وہ خود کررہے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ گذشتہ روز میں نے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے ناصر بن حمد بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ فوٹو گرافی کے ایک مقابلے میں پہلی پوزیشن پر دیاگیا۔ یہ ایوارڈ خلیجی ریاست بحرین میں نوجوانوں اور کھیلوں کے امور کی وزارت کی طرف سے چھٹے ایڈیشن میں گائے کی حفاظت کے پروجیکٹ پر دیا گیا۔ اس نے جنوبی سوڈان کے دورے کے دوران المنداری قبائل کے ہاں پالے جانے والی گائے اور بیل کی 10 نایاب تصاویر حاصل کیں۔ ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ قبائلی اپنی بگڑی گائیوں کی حفاظت کیسے کرتے ہیں۔

گائیوں سے لاڈ پیار : ھشام الحمید نے مزید کہا کہ منداری قبائل دریائے نیل کے وسط میں ایک چھوٹے سے جزیرے پر "ترکیکا” نامی علاقے میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ اپنے بڑے سینگوں والی گایوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اوران کی پرورش کرتے ہیں۔ ان کے پاس موجود گائیوں کی نسل ایک نایاب نسل ہے۔ منداری قبائل نے اس جزیرے کو اپنے مسکن کے طورپر اس لیے اختیار کیا کیونکہ یہ گائے کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ وہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہے اور یہ جزیرہ گائے کی پرورش کے لیے موسمی لحاظ سے بھی موزوں ہے۔ چرواہے ہر صبح گوبر جمع کرنے اور چراگاہوں کے تمام مضافات میں جلانے کے کچھ رسم و رواج انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنی گایوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے لیے ان کے اطراف میں آگ جلاتے ہیں اور خود بھی ان کے ساتھ سوتے ہیں کیونکہ وہ انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں۔

فوٹو گرافی کی شروعات : فوٹوگرافی کی دنیا میں قدم رکھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئےھشام الحمید نے کہا کہ میں نے اتفاق سے فوٹوگرافی شروع کی۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران جب میں نے دو ماہ پڑھنا چھوڑ دیا تو دل میں فوٹو گرافی کا خیال آیا۔ فراغت کے ایک ہفتے بعد خیال آیا کہ مجھے کچھ مصروفیت تلاش کرنی چاہیے۔ یہ مصروفیت کوئی ایسا مشغلہ ہو جو میرے لیے فائدہ مند بھی ہو۔ میں نے فوٹو گرافی کا فیصلہ کیا۔وہاں سے میں نے کیمرہ ہاتھ میں لیا اور فوٹو گرافی شروع کردی۔

اس نے مزید کہا کہ میری فوٹو گرافی کی ایک ایک تصویر میں الگ الگ کہانی پنہاں ہے۔ میں نے بچوں، بڑوں، بوڑھوں،خواتین اور دنیا بھر میں شادیوں کی تصاویر اکھٹی کیں، طلبا، ثقافتوں، اسکولوں، قبائل، پیشوں اور اقوام عالم کی روایات اور عادات کو تصاویر کا موضوع بنایا۔

فوٹوگرافی کے لیے سفر : ھشام الحمید نے کہا کہ میں نے سڑکوں اور لوگوں کی زندگی کا سفراور تصویرکشی شروع کی۔ آغاز میں میں نے روزمرہ کی زندگی کی عکاسی شروع کی۔ میں نے اپنے شہر الاحساء سے آغاز کیا۔ الاحسا مختلف موضوعات سے بھرا ہوا ایک عوامی اور سادہ شہر ہے۔ میں نے شہروں اور دیہات میں جا کر تصاویر حاصل کیں۔ سال 2012ء میں پہلی بار بھارت کے سفر سے آغاز کیا۔

آخری سفر : الحمیدنے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا آخری سفر جنوبی سوڈان کا تھا اور منداری قبائل میرے میزبان تھے۔ میں نے اس قبیلے کی روایات ، عادتوں اور اقدار کو تصویری شکل دینا تھی۔ یہ میرے سب سے مشکل دوروں اور سفروں میں سے ایک ہے۔ جنوبی سوڈان ایک جدید ملک ہے اور اس میں دیکھنے کے لیے بہت سے عناصر کی کمی ہے لیکن مجھے بہت پذیرائی ملی۔ عوام شفقت کے ساتھ پیش آئے۔

مشکل مشن : اس نے کہا کہ فوٹو گرافی کی خاطر سفر کرنا فوٹوگرافر کے لیے ایک مشکل کام ہے کیونکہ اس کا آغاز منصوبہ بندی اور صحیح جگہ کا درست انتخاب کرنے سے ہوتا ہے۔ میں نے فوٹو گرافی کی خاطر 25 سے زائد ممالک کا سفر کیا ہے اور کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں سیاح اپنی سالانہ تعطیلات گذارنے کے لیے نہیں جا سکتا لیکن ہر ملک میں میرا مطلب ہے کہ میں ایک مختلف دنیا میں سفر کرتا ہوں۔ میرا سفر ہوٹلوں اور تفریحی مقامات کے درمیان نہیں گذرتا بلکہ میں ان لوگوں کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوں جہاں میں جا رہا ہوں۔ میں کانگو کے دارالحکومت کنشاسا کے سفر کی تیاری کررہا ہوں اور آئندہ سال مارچ میں ارجنٹائن جانے کا ارادہ ہے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button