القاعدہ فی الہند کی توجہ پھر سے کشمیر پر مرکوز

القاعدہ فی الہند کی میگزین کے نام میں تبدیلی سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد گروپ افغانستان سے کشمیر پر دوبارہ توجہ مرکوز کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی۔

اقوام متحدہ: القاعدہ فی الہند کی میگزین کے نام میں تبدیلی سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد گروپ افغانستان سے کشمیر پر دوبارہ توجہ مرکوز کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ القاعدہ کی ذیلی تنظیم ہونے کے ناطہ القاعدہ فی الہند‘ افغانستان میں جہاں اس کے زیادہ تر لڑاکے موجود ہیں‘ لو پروفائل ہے یعنی زیادہ سرگرم نہیں ہے۔ اس کے لڑاکوں کی تعداد 180 تا 400 بتائی جاتی ہے۔

ان لڑاکوں کا تعلق بنگلہ دیش‘ ہندوستان‘ میانمار اور پاکستان سے ہے اور یہ لوگ افغان صوبوں غزنی‘ ہلمند‘ قندھار‘ نمروز‘ پکتیکا اور زابل میں موجود ہیں۔

2020 میں القاعدہ فی الہند کے رسالہ کا نام نوائے افغان جہاد سے بدل کر نوائے غزوہ ہند کردیا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ افغانستان سے کشمیر پردوبارہ توجہ مرکوز کررہی ہے۔

میگزین نے اپنے قارئین کو یاددلایا کہ الظواہری نے اپریل 2019میں سری لنکا میں داعش کے حملوں کے بعد کشمیر میں جہاد کی اپیل کی تھی۔ گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں اقتدار پر طالبان کے کنٹرول کے 9 ماہ بعد اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی۔

تبصرہ کریں

Back to top button