الور عصمت ریزی کیس، پولیس پر دباؤ ڈالنے کا الزام

متاثرہ لڑکی کے والد جو پولیس ملازمین کے مختلف موقف اختیار کرنے پر مایوس ہوگئے ہیں، پولیس اور انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک فرضی تھیوری کو قبول کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں، تاکہ اس کیس کو ایک نیا موڑ دیا جاسکے۔

جئے پور: راجستھان پولیس 20 دن بعد بھی الور عصمت ریزی کیس میں کوئی سراغ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے والد جو پولیس ملازمین کے مختلف موقف اختیار کرنے پر مایوس ہوگئے ہیں، پولیس اور انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک فرضی تھیوری کو قبول کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں، تاکہ اس کیس کو ایک نیا موڑ دیا جاسکے۔ واضح رہے کہ الور میں 11 جنوری کو ایک گونگی بہری، کمسن لڑکی زخمی حالت میں پائی گئی تھی۔

اسے مقامی ہاسپٹل لے جایا گیا تھا، جہاں سے اسے مزید علاج کے لیے جئے پور کے جے کے لون ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے اسے ابتداء میں اجتماعی عصمت ریزی کاکیس قرار دیا تھا۔ بعدازاں اس نے کہا تھا کہ اجتماعی عصمت ریزی کے امکانات نہیں ہیں۔

 اس کے بعد حادثہ کے زاویہ سے اس کو دیکھنا شروع کیا گیا۔ اسی دوران متاثرہ کے والد نے پیر کی شام کہا کہ وہ پولیس کی تحقیقات سے قطعی مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملہ میں انصاف چاہتے ہیں۔ میری لڑکی اشاروں کی زبان میں بات کرتی ہے اور اس نے بتایا کہ دو نوجوانوں نے اسے کلورٹ کے نیچے پھینک دیا تھا۔

اس بارے میں مزید کچھ دریافت کرنے پر وہ رونے لگتی ہے۔ بہرحال پولیس ٹیم ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ہم اسے حادثاتی کیس کے طور پر قبول کرلیں اور ہم سے کہا جارہا ہے کہ ہمیں حادثہ کے لیے معاوضہ ملے گا۔ انتظامیہ نے مجھے زمین دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اور ہمارے لیے گھر بنانے کا تیقن دیتے ہوئے لالچ دینے کی کوشش کی تھی۔

 انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ ہمیں ساڑھے تین لاکھ روپئے ملیں گے اور زیادہ بھی مل سکتے ہیں۔ اس قسم کی پیشکشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ کچھ غلط کررہے ہیں۔ ایف ایس ایل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کے لباس پر مادہئ منویہ پایا گیا ہے۔ پولیس نے ہمیں مزید کپڑے بھیجنے کے لیے کہا تھا اور اب اس کا کہنا ہے کہ دوسرے کپڑوں پر بھی مادہئ منویہ پایا گیا ہے۔

 یہ ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ ہم نے دھلے ہوئے کپڑے بھیجے تھے۔ اس پر مادہئ منویہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ مجھے کہیں اکیلے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پولیس والوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لوگ ہمیں لے جائیں گے جب کہ کانگریسیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کھیل کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button