اوبی سی تحفظات، سپریم کورٹ سے مزید مہلت طلب کیے جانے کی توقع:بومئی

سپریم کورٹ کے احکام کے بعد مجالس مقامی کے زیرالتواء انتخابات کے امکان کے پیش نظر کرناٹک کے چیف منسٹر بسواراج بومئی نے کہا کہ حکومت دیگر پسماندہ طبقات (او بی سیز) کے لیے تحفظات مقرر کرنے کی مہلت طلب کرنے یا موجودہ تحفظات پر عمل کرنے کا موقع دینے کی درخواست کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پرغور کررہی ہے۔

بنگلورو: سپریم کورٹ کے احکام کے بعد مجالس مقامی کے زیرالتواء انتخابات کے امکان کے پیش نظر کرناٹک کے چیف منسٹر بسواراج بومئی نے کہا کہ حکومت دیگر پسماندہ طبقات (او بی سیز) کے لیے تحفظات مقرر کرنے کی مہلت طلب کرنے یا موجودہ تحفظات پر عمل کرنے کا موقع دینے کی درخواست کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پرغور کررہی ہے۔

چیف منسٹر نے وقت ملنے کے تعلق سے امید ظاہر کی۔ بومئی نے کہا کہ او بی سی تحفظات پر‘ بی بی ایم پی سے متعلق ایک کیس سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے۔۔ ضلع اور تعلقہ پنچایت انتخابات کے معاملے میں بھی ہمیں درخواست کرنی ہوگی کہ ہمیں (حکومت کو) قانونی اور دستوری طور پر او بی سی تحفظات فراہم کرنا ہوگا۔

“ یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس دو راستے ہیں یا تو مزید مہلت کے لیے اپیل کی جائے یا پھر پرانے او بی سی تحفظات پر عمل کرنے کا موقع فراہم کی درخواست کی جائے۔“ انہوں نے کہا کہ ہم وقت ملنے کے تعلق سے پُرامید ہیں۔ ہمیں او بی سی تحفظات کے ساتھ انتخابات کروانا ہے۔ یا تو موجودہ تحفظات کے ساتھ یا پھر نئے تحفظات کے لیے وقت طلب کرکے۔

“ سپریم کورٹ نے منگل کو مدھیہ پردیش کے ریاستی الیکشن کمیشن (ایس ای سی) کو اندرون دو ہفتے مجالس مقامی کے انتخابات کا اعلامیہ جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بنچ نے اپنے احکام میں کہا تھا کہ اس کے احکام صرف مدھیہ پردیش تک محدود نہیں ہیں بلکہ تمام ریاستوں /مرکزی زیرانتظام علاقوں پر لاگو ہوتے ہیں اور متعلقہ الیکشن کمیشن‘ دستور ی لزوم کو برقرار رکھنے بہرصورت اس پر عمل کرے۔ضلع اور تعلقہ پنچایت کے انتخابات مئی جون2021میں منعقد شدنی تھے، مگر نہیں ہوسکے، کیوں کہ ریاستی حکومت نے پنچایت کی ازسرنو حد بندی کے لیے حد بندی کمیشن قائم کردیا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ مجالس مقامی میں او بی سی تحفظات‘ تین نکاتی اہلیتی امتحان سے گزرنے کے بعد فراہم کیے جانے چاہیے۔ بی بی ایم پی کے کیس میں بلدیہ میں 2020سے منتخب کونسل نہیں ہے اور سینئر آئی اے ایس عہدیداران‘ بطور منتظم اور کمشنر اس پر حکمرانی کررہے ہیں۔

 بلدیہ کے انتخابات جون 2020میں ہونے تھے، مگر حکومت نے بی بی ایم پی کے وارڈس کو 198سے بڑھا کر 243کرنے کے لیے حد بندی کا عمل شروع کردیا۔ دسمبر2020 میں سپریم کورٹ نے انتخابات پر روک لگادی اور یہ کیس ہنوز زیرالتواء ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button