اومیکرون خطرہ سے اولیائے طلبہ پریشان،آن لائن کلاسس بحال کرنے کا مطالبہ

سنگاریڈی کے ایک اقامتی اسکول کے27 اور کریم نگر کے ایک میڈیکل کالج کے 50طلبہ کو کووڈ ٹسٹ پازیٹیو آنے کے بعد والدین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ والدین اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ آیا وہ اپنے کمسن بچوں کو اسکول روانہ کریں یا نہ کریں۔

حیدرآباد: دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا کے نئے ویرینٹ ”اومیکرون“ کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کے واقعات کے درمیان تلنگانہ میں اسکولی بچوں کے والدین، سرپرست اپنے بچوں کی صحت کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ والدین، گذشتہ ایک ہفتہ سے والدین اس بات پر پریشان ہیں آیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول روانہ کریں یا نہ کریں۔ اگر چیکہ تلنگانہ میں ابھی تک اومیکرون کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے مگر ریاست کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاعات کے بعد والدین، اپنے بچوں کے تئیں کافی فکر مند ی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔

 سنگاریڈی کے ایک اقامتی اسکول کے27 اور کریم نگر کے ایک میڈیکل کالج کے 50طلبہ کو کووڈ ٹسٹ پازیٹیو آنے کے بعد والدین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسکول جانے والے بچوں کے والدین اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ آیا وہ اپنے کمسن بچوں کو اسکول روانہ کریں یا نہ کریں۔ وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ والدین / اولیائے طلبہ نے حکومت اور اسکول انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آن لائن کلاسس کے نظام کو بحال کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے، 6 سے7 گھنٹے، اسکول میں رہتے ہیں اسی دوران انہیں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 چند اسکولوں میں کووڈپازیٹیو کے کیس سامنے آئے ہیں ایسے میں بچوں کی سیفٹی کے طور پر آن لائن کلاسس کو ایک بار پھر شروع کرنا وقت کا تقاضہ بھی ہے۔ آف لائن کلاسس کو بند کرنے سے نہ صرف بچوں کی صحت کیلئے فیصد رہے گا بلکہ گھروں میں مقیم معمر افراد کو انفیکشن کا خطرہ کم ہوجائے گا۔ کیونکہ اسکولی ایک بچے کو اگر انفیکشن ہوجاتا ہے تو گھر کے معمر افراد کو بھی ان انفیکشن کا خطرہ برقرار رہے گا۔ اس دوران حیدرآباد اسکو پیارنٹس اسوسی ایشن کے جائنٹ سکریٹری کے وینکٹیش سائی ناتھ نے کہا کہ اسکول انتظامیہ، بچوں کو آف لائن کلاسس میں شرکت کیلئے اصرار نہیں کرے گا۔ بچے، آن لائن کلاسس سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button