اْردو یونیورسٹی میں یومِ آئین منایا گیا

26 نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں آئین کو منظوری ملی جو 26 جنوری 1950کو نافذ کیا گیا۔ حکومت ہند نے 26 نومبر کو یومِ دستور ہند کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی سلسلے میں یہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔

حیدرآباد: آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب آئین کو پڑھیں، سمجھیں اور اختیار کریں۔ آئین ہمیں بہت سے اختیارات دینے کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ہم پر عائد کرتا ہے۔ اپنی ذمہ داریاں سمجھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اْردو یونیورسٹی نے آج یوم آئین کے موقع پر آئی کے گجرال عمارت انتظامی کے باہر منعقدہ پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

26 نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں آئین کو منظوری ملی جو 26 جنوری 1950کو نافذ کیا گیا۔ حکومت ہند نے 26 نومبر کو یومِ دستور ہند کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی سلسلے میں یہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔

پروفیسر محمد فریاد، صدر نشین، سماجی ذمہ داری وتوسیعی سرگرمیاں کمیٹی نے آئین کی تمہید پڑھی جسے سبھی حاضرین نے دہرایا۔

اس موقع پر پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر، پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج، پروفیسر سنیم فاطمہ، ڈین تعلیمات، جناب مرزا فرحت اللہ بیگ، کنٹرولر امتحانات، ڈاکٹر پی ایس منور حسین، فینانس آفیسر انچارج، ڈاکٹر بی ایل مینا، ڈاکٹر محمد جمال الدین خان، ہاشم علی ساجد، ابرار احمد، پی حبیب اللہ کے علاوہ اراکین کمیٹی ڈاکٹر تحسین بلگرامی، ڈاکٹر جرار احمد و ڈاکٹر اقبال خان اور طلبہ نے شرکت کی۔

یونیورسٹی میں یومِ آئین کے موقع پر شعبہ مینجمنٹ و کامرس کے زیر اہتمام مخدوم محی الدین آڈیٹوریم، اسکول آف بزنس مینجمنٹ و کامرس میں ”آئینی اقدار و فلسفہ“ کے زیر عنوان پروفیسر افروز عالم، صدر شعبہ سیاسیات نے خصوصی لیکچر پیش کیا۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button